501

آئی ایم ایف سے مذاکرات کی منظوری:عالمی ادارے کی ڈالر اور بجلی مہنگی کرنے سمیت 20 شرائط

حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا۔ وزیر خزانہ اسد عمرنے کہاکہ وزیر اعظم نے اقتصادی ماہرین اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بیل آؤٹ پیکیج کیلئے آئی ایم ایف سے فوری مذاکرات کی منظوری دیدی۔ وزیر خزانہ کا ویڈیو پیغام میںکہنا تھا کہ ہر جانے والی حکومت نئی حکومت کیلئے معاشی بحران چھوڑ کر گئی ،ہم ہر نئی حکومت کے آنے پر معاشی بدحالی کا تسلسل توڑنا چاہتے ہیں۔انہوںنے مزید کہا کہ ملک کے اندر اور باہر تمام وسائل پر گزشتہ ڈیڑھ ہفتے کے دوران تفصیلی غور کیا گیا ،وزیر اعظم نے معاشی بحران کے حل کیلئے دوست ممالک سے بھی بات کی ، عوام جانتے ہیں ملک مشکل مالی حالات سے گزر رہا ہے ، معاشی بحالی آسان نہیں مشکل چیلنج ہے ، ہم نے بحران سے نکلنے کیلئے متبادل راستے اختیار کرنا ہیں ، مشکل سے نکلنے کیلئے ایک سے زیادہ ذرائع استعمال کرینگے ، معاشی بحالی کیلئے اقتصادی ماہرین کے ساتھ مشاورت کی ہے ، دوست ملکوں سے بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے 3 سال کیلئے 7 سے 8 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی بات کی جائیگی،ہمارا ہدف صاحب استطاعت لوگ ہیں ، کوشش ہے کہ کمزور طبقے کا سخت فیصلوں پر کم سے کم اثر پڑے ۔اسد عمر نے کہا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ، مسائل کے حل کیلئے تمام ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع تلاش کرنا ہونگے ۔ ادھر وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کا فیصلہ مالی صورتحال پر ماہرین معاشیات سے مشاورت کے بعد کیا ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کا پروگرام لے رہی ہے ، پاکستان 1990 کے بعد 10 مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام لے چکا ۔ اعلامیے میںمزید کہا گیا کہ ہر حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی پالیسوں سے معیشت کے نقصانات کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کیا،اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 2 ارب ڈالر ماہانہ ہے ، توانائی کے شعبے کے نقصانات 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہیں ، ترامیمی فنانس ایکٹ بھی ان حالات کی وجہ سے لانا پڑا جبکہ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں اضافہ مائیکرو اکنامک استحکام کیلئے کیا۔اعلامیے میںکہا گیا کہ حکومت آئی یم ایف کا پروگرام لے کر بنیادی اصلاحات لائیگی جس کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہیگی۔ مزید برآںمانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق وزیر خزانہ دورہ انڈونیشیا میں آئی ایم ایف سے باضابطہ درخواست کریں گے ۔پاکستان کی درخواست کے بعد آئی ایم ایف وفد 10 روز میں پاکستان کا دورہ کریگا اور اپنی شرائط سامنے رکھے گا ، پاکستان کی رضا مندی کے بعد پروگرام کو حتمی شکل دی جائیگی۔ اس سارے عمل کیلئے 4 سے 6 ہفتوں کا وقت درکار ہوگا ، آئی ایم ایف پروگرام کا دورانیہ 3 سال ہو گا ۔ مزید برآں پاکستانی وفد وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں انڈونیشیاپہنچ گیا جہاں وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریگا ۔ وزیر خزانہ سائیڈ لائنز پر آئی ایم ایف کے حکام سے ملاقات کرینگے اور پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز اورمجوزہ آئی ایم ایف پروگرام پر بھی بات کرینگے ۔ آئی ایم ایف پاکستان کو 10 ارب ڈالر تک کا قرضہ دے سکتا ہے ۔ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضہ دینے کیلئے 20شرائط رکھ دیں جس میںروپے کی قدر میں مزید کمی اورڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنا سرفہرست ہے ،ڈالر کی قیمت میں 15فیصد اضافے سے 150روپے تک پہنچ جائیگی ۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافے کا مطالبہ کیا ہے ، عملدرآمد کے بعد بجلی کی قیمت میں4روپے فی یونٹ تک اضافہ کرنا ہوگا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ دوست ممالک سے مذاکرات کا خاطر خواہ نتیجہ نہیںنکلا ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے نتیجے میںمہنگائی کا طوفان آ جائیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں