178

آرمی چیف کی ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی مشروط منظوری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی مشروط منظوری دے دی۔
عدالتِ عظمیٰ میں آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے سماعت شروع کی گئی تو اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان کی جانب سے مزید دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں، بینچ کے ارکان نے سمری کا جائزہ لیا۔
سپریم کورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آج ہم مختصر فیصلہ سنائیں گے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے جاری کیے گئے اپنے مختصر حکم نامے میں کہا ہے کہ حکومتی سمری پر آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی مشروط اجازت دی گئی ہے، آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی حکومتی سمری پر ریٹائرمنٹ کی تاریخ درج نہیں۔
عدالت کی جانب سے حکومت کو حکم دیا گیا کہ 6 ماہ میں قانون سازی مکمل کرے، اس کیس میں حکومت نے ایک سے دوسرا مؤقف اختیار کیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی پر انحصار کر رہی ہے اور آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے، حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ہم نے آرمی ایکٹ 1952ء اور رول 1954ء سمیت دیگر قوانین کا جائزہ لیا ہے اور آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی مشروط منظوری دی ہے، یہ تقرری 6 ماہ کے لیے ہوگی۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ آرمی چیف کی مدت اور مراعات سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کی جائے گی، عدالتِ عظمیٰ نے سارے معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کرے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نئی قانون سازی تک اپنے عہدے پر فرائض انجام دیں گے، آج عدالت میں پیش کیا جانے والا نوٹی فکیشن 6 ماہ کیلئے ہوگا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ 4 نکات پر مشتمل تحریری بیان جمع کرائیں، ہم 3 ماہ کے لیے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر دیتے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ دوپہر کو شارٹ آرڈر جاری کریں گے، جبکہ شام کو فیصلہ جاری کر دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں