265

آمدن سے زائد اثاثے: آغا سراج کا جسمانی ریمانڈ مسترد، عدالت نے جیل بھیج دیا

کراچی کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے کے کیس میں گرفتار اسپیکر سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما آغا سراج درانی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
شہر قائد کی عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے گرفتار آغا سراج درانی کو پیش کیا گیا، اس دوران پی پی جیالوں نے ان کے حق میں نعرے بازی کی۔
دوران سماعت نیب استغاثہ کی جانب سے آغا سراج درانی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ مزید کچھ شواہد اکھٹے کرنے ہیں، جس کےلیے جسمانی ریمانڈ چاہیے۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 2 ملزمان جو ضمانت پر تھے انہیں ملزم کے سامنے پیش کیا تھا، ملزم نے دونوں افراد کو پہچاننے سے انکار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک گواہ کا 164 کا بیان ریکارڈ کروانا ہے، جس کے لیے آغا سراج کا وہاں ہونا ضروری ہے۔
ساتھ ہی نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ہیں، ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید توسیع کی جائے ہوسکتا ہے یہ آخری دفعہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع ہو۔
اس پر آغا سراج درانی کے وکیل نے اعتراض کرتےہوئے کہا کہ عدالت نے گذشتہ سماعت پر ریکارڈ کے حوالے سے کہا تھا جس پر عمل درآمد نہیں ہوا، جس پر عدالت نے بھی نیب کے افسر سے پوچھا کہ کوئی نئی چیز سامنے آئی ہے یا نہیں۔
اس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ نیب والے عجیب و غریب باتیں کر رہے ہیں، ملزم کو 18 تاریخ کو کال اپ نوٹس جاری کیا تھا، 25 تاریخ کو بلایا تھا اور 20 کو گرفتار کرلیا گیا۔
دوران سماعت عدالت کی جانب سے پھر استفسار کیا گیا کہ اس کیس میں کوئی نئی چیز سامنے آئی ہے، جس پر نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ ذوالفقار ڈاہرجس پراپرٹی میں رہائش پذیر ہیں وہ کسی عرفان کے نام پر ہے اسکو تلاش کرنا ہے، ذوالفقار ڈاہر جو تمام مالی معاملات دیکھ رہا تھا اس کا بیان لینا ہے۔
پر آغا سراج کے وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے، ہائی کورٹ کی آبزرویشن ہے کہ یہ نا اہل تفتیشی افسر ہیں، ہر ریمانڈ کے بعد 2 چار نئے لوگوں کو نوٹس جاری کردیتے ہیں، قانون کے مطابق پہلے تفتیش ہونی چاہیے جو بعد میں ہورہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملزم کے گھر کی ویڈیو اور دیگر چیزیں کس نے دی ہے، اس طرح لوگوں کی عزت آزادی چھینی جائے تو ہم کس طرف جارہے ہیں، یہ نیب والے سوسائٹی کو آگ میں جھونک رہے ہیں، نیب والے جیسا کررہے ہیں کسی قبائلی علاقے میں بھی ایسا نہیں ہوتا۔
آغا سراج کے وکیل کا کہنا تھا کہ نیب نے گزشتہ سماعت پر لکھ دیا تھا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، اس پر نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قانون ہمیں 90 دن کے ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے،اس پر وکیل آغا سراج نے کہا کہ تو ایک ہی دفعہ ریمانڈ لے لیتے 90 دن کا۔
جس پر نیب نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کردیا گیا ہے، جلد اسے مکمل کرلیا جائے گا۔
تاہم عدالت نے نیب کی جانب سے آغا سراج کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی گئی اور انہیں 26 اپریل تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں