273

آمدن سے زائد اثاثے: پی ٹی آئی رہنما عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کو آئندہ سماعت پر حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور کی احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے تحریک انصاف کے گرفتار رہنما عبدالعلیم خان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنانے کے کیس کی سماعت کی۔
اس موقع پر جیل حکام نے جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر گرفتار ملزم عبدالعلیم خان کو احتساب عدالت پیش کیا۔
دوران سماعت قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان کے خلاف انویسٹی گیشن چل رہی ہے ابھی مکمل نہیں ہوئی، جس پر احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا کہ یہ انویسٹی گیشن کب تک جاری رہے گی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کچھ ریکارڈ اکٹھا کرنا باقی ہے جلد ہی انویسٹی گیشن مکمل کر لیں گے، جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا تفتشی افسر کہتا ہے کہ علیم خان نے ریکارڈ چھپا کر رکھا ہے۔
عبدالعلیم خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل تو جیل میں ہے وہ کیسے ریکارڈ چھپا سکتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنا نیب کی ذمہ داری ہے، 11 بج رہے ہیں اور آدھے سے زیادہ لاہور بند ہے۔
بعد ازاں عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ انویسٹی گیشن مکمل کرکے جلد رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے عبدالعلیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 20 اپریل تک توسیع کر دی اور نیب کو آئندہ سماعت پر حتمی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔
اس سے قبل آمدن سے زائد اثاثے کیس میں لاہور کی احتساب عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا تھا۔
علیم خان کی گرفتاری
خیال رہے کہ 6 فروری کو نیب نے پی ٹی آئی رہنما اور اس وقت کے وزیر علیم خان کو نیب آفس میں پیشی کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔
نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا۔
اس اعلامیے میں ملزم عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے بطور سیکریٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسی کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔
اعلامیے میں مزید تفصیلات بتائی گئی تھیں کہ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے اس کاروبار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی جبکہ ملزم نے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900 کینال زمین خریدی جبکہ 600 کینال کی مزید زمین کی خریداری کے لیے بیانیہ بھی ادا کی گیا، تاہم علیم خان اس زمین کی خریداری کے لیے موجود وسائل کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔
نیب لاہور کے مطابق ملزم علیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اپنے اثاثوں کے علاوہ 2005 اور 2006 کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں تھیں جبکہ ملزم کے نام موجود اثاثوں سے کہی زیادہ اثاثے خریدے گئے جس کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔
اس اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر ریکارڈ میں ردوبدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
خیال رہے کہ آمدن سے زائد اثاثے، پاناما پیپز میں آف شور کمپنی کے ظاہر ہونے اور ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق عبدالعلیم خان کے خلاف نیب تحقیقات کررہا تھا اور وہ 3 مرتبہ پہلے بھی نیب کے سامنے پیش ہوچکے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں