6

اسلام میں گداگری کی ممانعت

تحریر : نصراللہ خان چوہان
اسلام نے کسی صورت بھی گداگری کو پسند نہیں کیا بلکہ کسب ِ حلال پر زور دیا ہے
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے منہ موڑ کر ہر جگہ ذلیل و خوار
ہو رہے ہیں اور اس ذلت کا ایک اہم سبب گداگری ہے
اسلام دینِ فطرت ہے یہ کسی صورت میں بھی انسانیت کی تذلیل و تحقیر برداشت نہیں کرتا
تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہ حج میں تجارت کے ذریعے ) اپنے رب کا فضل (رزق بھی) تلاش کرلو:ارشاد ربانی
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم ؑ کو مبعوث فرما کر ساتھ ہی ان کو ذریعہ معاش بھی دے دیا کہ اس طریقے سے روزی کماؤ اور کھاؤ۔ اس کے بعد انبیاء کرام ؑ کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور ہر نبی ؑ نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش اپنایاجیسا کہ حضرت آدم ؑ نے کھیتی باڑی اور حضرت زکریا ؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے ، حضرت موسیٰ ؑ بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے ، حضرت ادریس ؑ درزی کا کام کرتے تھے ، حضرت داؤد ؑ آہن گر تھے ، حضرت ابراھیم ؑ بزاز تھے ، حضرت اسمٰعیل ؑ تیر بناتے تھے خود حضرت محمد ﷺ نے مزدوری پر بکریاں بھی چرائیں ، تجارت بھی کی ۔اس سے ثابت ہوا کہ روزگار کما نا ضروری ہے۔ لیکن عام لوگ مختلف تھے ، افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوگ سہل پسندی کا شکار ہوتے گئے ، تو بجائے ہاتھ سے کام کرنے کے لوگوں نے دوسروں کے سامنے دستِ دراز کر دیا۔ یہی گداگری کی ابتداء تھی۔
لفظ گداگری، گداگر سے مآخذ ہے جو فارسی زبان کا(مذکر) لفظ ہے ۔(بحوالہ:کفائت اردو لغات)۔جس کے معانی ہیں بھیک مانگنے والا، بھکاری، ہاتھ پھیلانے والا،منگتا اور سوالی وغیرہ۔
اسلامی تعلیمات اور گداگری
اسلام دینِ فطرت ہے یہ کسی صورت میں بھی انسانیت کی تذلیل و تحقیر برداشت نہیں کرتا۔ نماز جیسے سب سے اہم فرض کے لئے بھی دوڑ کر شامل ہونے کو منع کرتا ہے تاکہ انسانیت کا وقار مجروح نہ ہوجیسا کہ صحیح بخاری، مسلم ،سنن ابوداؤد، سنن نسائی، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حدیث مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:ترجمہ’’جب نماز کھڑی ہو جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ بلکہ تم سکون (اور وقار/ عزت ) کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ اور جو تم پالو انہیں پڑھ لو اور جو چھوٹ جائیں انہیں پوری کرلو ‘‘۔
اسلام نے کسی صورت بھی گداگری کو پسند نہیں کیا بلکہ کسب ِ حلال پر زور دیا ہے ۔تاریخ اسلام پر اگر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ صحابہ کرامؓ کو انتہائی مشکل حالات سے بھی گزرنا پڑا ایسے حالات میں بھی انہوں نے وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی کی مثال تو پیش کی مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان تھا کہ:
ترجمہ: اور ہم نے دن کو (کسبِ) معاش (کا وقت) بنایا (ہے )
کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پختہ یقین تھا کہ:
ترجمہ: اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسباب معیشت پیدا کئے اور ان(انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتے
رزقِ حلال کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ:
تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہ حج میں تجارت کے ذریعے ) اپنے رب کا فضل (رزق بھی) تلاش کرلو۔
کسی قوم ،قبیلے ، مُلک یا معاشرے کی ترقی کا انحصار اس کے ذرائع معاش پر بھی ہوتا ہے ۔اگر معاشرے میں چوری ، ڈکیتی، گداگری، رشوت، اقربا پروری کا ماحول ہو تو وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی کی منازل کو نہیں چھو سکتا۔ اگر اس کے ذرائع معاش صحیح ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کی منازل کو طے کرتا ہوا اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے ۔ اس کے بارے قرآن پاک میں ارشاد ہوا،
ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی نہ لائیں ۔
اس بات کو مولانا ظفر علی خاں ؒ یوں بیان کر تے ہیں:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو اپنی آپ حالت کے بدلنے کا
آپ ﷺ نے ہمیشہ ہاتھ سے روزی کمانے کو ترجیح دی اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ یہ الگ با ت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے در سے کسی سائل کو خالی نہ لوٹایا مگر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہ فرمائی ۔ اس کی وضاحت سنن ابنِ ماجہ کی اس حدیث ِمبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس کو حضرت انس ؓبِن مالک روایت کرتے ہیں کہ :
ترجمہ: حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری مرد نبی (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا۔ آپﷺ نے فرمایا تمہارے گھر میں کچھ ہے ؟ عرض کیا ایک کمبل ہے ۔ کچھ بچھالیتے ہیں اور کچھ اوڑھ لیتے ہیں اور پانی پینے کا پیالہ ہے ۔ فرمایا دونوں لے آؤ۔ وہ دونوں چیزیں لے آیا ۔ رسول اللہﷺ نے دونوں چیزیں اپنے ہاتھوں میں لیں اور فرمایا یہ دو چیزیں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ میں دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں۔ آپﷺ نے دو تین مرتبہ فرمایا کہ ایک درہم سے زائد کون لے گا؟ ایک مرد نے عرض کیا میں دو درہم میں لیتا ہوں تو آپﷺ نے دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا ایک درہم سے کھاناخرید کر گھر دو اور دوسرے سے کلہاڑا خرید کر میرے پاس لے آؤ اس نے ایسا ہی کیا۔

رسول اللہ ﷺ نے کلہاڑا لیا اور اپنے دست مبارک سے اس میں دستہ ٹھونکا اور فرمایا ،جاؤ ،لکڑیاں اکٹھی کرو اور پندرہ یوم تک کام کرنا ، وہ لکڑیاں چیرتا رہا اور بیچتا رہا پھر وہ حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم تھے ۔ فرمایا کچھ کا کھانا خرید لو اور کچھ سے کپڑا۔ پھر فرمایا کہ خود کمانا تمہارے لئے بہتر ہے ، بہ نسبت اس کے کہ تم قیامت کے روز ایسی حالت میں حاضر ہو کہ مانگنے کا داغ تمہارے چہرہ پر ہو۔ مانگنا درست نہیں سوائے اس کے کہ جو انتہائی محتاج ہو یا سخت مقروض ہو یا خون میں گرفتار ہو ۔ جب آپ ﷺ سے کسب کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کون سا کسب /کاروبار اچھا اور اعلیٰ ہے تو اس پر آپ ﷺ نے ہاتھ سے کا م کرنے کو ہی افضل قرار دیا:
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ پاک اور افضل کام (کسب )کیا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر مبرور بیع۔
کسب حلال کو آپ ﷺ نے عین فرض قرار دیا ہے ۔ جس طرح دوسرے فرائض کی بجا آوری لازمی ہے اس طرح رزقِ حلال کا حصول بھی فرض عین ہے ۔ حضرت عبداللہؓ سے مروی حدیث ہے کہ :آپﷺ نے فرمایا کہ’’ بنیادی فرائض کے بعد رزقِ حلال کی طلب سب سے بڑا فرض ہے‘‘ ۔ آپ ﷺ نے مال دار اور تندرست شخص کے لئے صدقہ و خیرات کو حرام قرار دیا ہے ۔ حضرت عبداللہ بِن عمرؓآپ ﷺسے روایت فرماتے ہیں کہ :
رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا،’’ مالدار کے لئے اور تندرست و توانا کے لئے صدقہ حلال نہیں‘‘ ۔(ان الفاظ سے ملتے جُلتے الفاظ کے ساتھ حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مروی ہے جوسنن ابن ماجہ میں درج ہے ۔)
یعنی صدقہ لینا ایک اچھے بھلے آدمی کے لئے حلال نہ ہے ، اگر وہ صدقہ و خیرات سے اپنا پیٹ پالتا ہے تو گویا اس نے حرام مال سے اپنی پرورش کی جو کہ مومن کی شان کے سراسر خلاف ہے اس بارے صوفی عبدالرحمن اپنی تصنیف آسان رزق میں یوں لکھتے ہیں کہ:
ترجمہ: ایک مومن کی زندگی کی شان یہ ہے کہ وہ حلال کمائی تلاش کرے ، حلال کمائی کھائے ، پاکیزہ روزی حاصل کرے اور پاکیزہ روزی کھائے ، تب ہی دین و دُنیا کی کامیابی ہے ۔ ورنہ تو آج حرام راستے سے حاصل کی ہوئی دولت کل قیامت کے دن جان کا وبال ہو گی اورہلاکت کا سبب بنے گی۔
بھیک مانگنے والے اکثر یہ کہتے ہیں کہ اب جی عادت پڑ گئی ہے ،بڑی کوشش کرتے ہیں اور یہ عادت ختم نہیں ہوتی ان کی یہ بات سو فی صد غلط ہے کیونکہ آپ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ اس کی وضاحت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس قبیح فعل سے بچنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بچائے گا ۔حدیث مبارکہ کے الفاظ یوں ہیں کہ:
ترجمہ: میرے پاس اگر متاع ہو گی تو میں تم سے بچا کے نہ رکھوں گااورجو شخص (سوال کرنے سے )بچے گا اللہ اسے (غربت اور سوال کرنے سے )بچائے گا اور جو بے پرواہی ظاہر کرے گا اللہ اسے بے پرواہ(غنی)کر دے گا اور جو شخص صبر کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔ اور کسی کو صبر سے بہتر کوئی چیز(نعمت)عطا نہیں کی گئی۔انسا ن اگر ہمت اور کوشش کرے تو کوئی ایسا کام نہیں جس کو حل نہ کیا جا سکتا ہو مگر شرط اس کے لئے محنت اور کوشش ہے ۔ کسی بھی کام کے سرانجام دینے کے لئے نیک نیت کے ساتھ مصمم ارادہ شرط ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس میں برکت پیدا کر دیتا ہے ۔اسی سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ایک حدیث ہے کہ :
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ،اے ابنِ آدم ! میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کر میں تیرے سینے کو تونگری سے بھر دوں گا (تجھے غنی کر دوں گا)، اور لوگوں سے تجھے بے نیاز کر دوں گا، اور(اگر ) تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے ہاتھ بے کار کاموں میں الجھا دوں گا، اور (لوگوں کی طرف) تیری محتاجی کو ختم نہ کروں گا‘‘۔
اس حدیث کی وضاحت میں قاری ابو انشاء خلیل الرحمٰن جاوید لکھتے ہیں کہ :
اس حدیث شریف میں نبی کریمﷺ نے امت کو بتایا ہے کہ پوری توجہ اور دھیان اللہ کی عبادت کرنے والے کے لئے اللہ کی طرف سے دو انعامات کا وعدہ ہے ، پہلا انعام یہ ہے کہ اس کے دل کو تونگری سے بھر دے گا اور دوسرا انعام یہ ہے کہ اس کو لوگوں سے بے نیاز فرما دے گا۔اسی حدیث شریف میں توجہ اور دھیان سے عبادت نہ کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو سزائیں ملنے کی وعید بھی ہے ۔ پہلی سزا یہ کہ اللہ اس کے بیکار کاموں میں الجھا دے گا اوردوسری سزا یہ ہے کہ وہ لوگوں سے اس کی محتاجی کو ختم نہ کرے گااور وہ ہمیشہ لوگوں کا دستِ نگر اور محتاج رہے گا۔ جتنی مذمت اسلام نے گداگری کی کی ہے شائد ہی دُنیا کے کسی اور مذہب نے کی ہو۔ کیونکہ اس میں انسانیت کی تذلیل ہے اور اسلام انسانیت کا وقار چاہتا ہے ۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بِن عُمرؓسے مروی حدیث ہے کہ:
نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ ایک شخص لوگوں سے مانگتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا ۔ (اس حدیث کو امام مُسلم نے صحیح مسلم ، کتاب الزکوۃ میں بھی بیان کیا ہے)
جمہور علماء ،محققین اور اسلامی تعلیمات کے مطابق سوال کر نا /مانگنا/ بھیک مانگنا ایک قبیح عمل ہے ، اور یہ سب کے نزدیک حرام ہے ۔ اور یہ اپنے چہرے اور منہ کو نوچنے کے مترادف ہے جس کی اسلام نے سخت ممانعت کی ہے ۔
حضرت سمرہ بن جندبؓ سے ایک حدیث مروی ہے کہ:
نبی ﷺ نے فرمایا کہ سوال کرنا خراشیں ہیں جس سے کوئی شخص اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے پس جو چاہے اسے اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے اس(سوال کرنے کو)چھوڑ دے مگر انسان حاکم سے سوال کرے یا کسی ایسے معاملے میں سوال کرے جس میں سوال کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔(ملتے جُلتے الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نسائی، ترمذی اور صحیح الترغیب میں بھی بیان ہوئی ہے ۔)
سوال کرنا کتنا بڑا نقصان ہے جس کے بارے آپ ﷺ نے وعید بیان فرمائی ہے ۔ اگر ہم آپ ﷺ کے ان فرامیں پر عمل کریں تو ہمارا معاشرہ ایک جنت نظیر معاشرہ بن جائے حضرت ابنِ عباس (رض )سے مروی ایک حدیث ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ اگر سوال کرنے والے کومعلوم ہو جائے کہ اس میں اس کے لئے کیا (ذلت، رسوائی اور خرابی) ہے تو وہ کبھی سوال نہ کرے‘‘ ۔حضرت عبداللہ بن عُمرؓسے صحیح بخاری کی ایک حدیث مروی ہے کہ :
نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’جو آدمی لوگوں سے ہمیشہ سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دِن آئے گا اور اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی نہ ہو گی‘‘۔(اس حدیث کو مختلف الفاظ کے ساتھ الصحیح مسلم، سنن نسائی، معجم ابن عساکر اورکنزالعمال میں بھی بیان کیا گیا ہے )سوال کرنے کی ممانعت پر آپﷺ کا ایک اور فرمان جس کو امام بخاری، اور ابنِ ماجہ نے حضرت زبیر بِن عوام ر ض کی روایت سے بیان کیا ہے ۔
زبیرعوام، نبی (ﷺ) سے روایت کرتے ہیں، کہ تم میں سے کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا بنائے اور اس کو بیچے اور اللہ اس سے اس کی آبرو بچائے ،تو اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے اور وہ اسے دیں یا نہ دیں۔
بلا ضرورت مال حاصل کرنے کے لئے سوال کرنا یا اسی کو اپنا پیشہ بنا لینا مذموم ہے اور اسی کو گداگری کا پیشہ کہتے ہیں ــــــــیہ ناجائز ہے اور ایسی کمائی حرام ہے ۔ مخزن اخلاق کے مصنف اپنی کتاب میں سوالی(سوال کرنے والے ، بھکاری یا گداگر) کو کتے سے تشبیہ دیتے ہوئے اس کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ:سائل ذلیل و خوار ہوتا ہے مسؤل کے نزدیک بلکہ جو کوئی اس پر مطلع ہوتا ہے وہ بھی اسے ذلیل سمجھتا ہے ۔ عزت کا جانا، نظروں سے گرنا ،آبرو ریزی ، نا ملائم باتوں کا برداشت کرنا ، مجالس میں اس کی طرف اعتنا نہ ہونا اور اس کی بات پر کان نہ دھرنا اور اس کے وعظ و پند کا تاثیر نہ کرنا یہ سب کچھ سوال کی بدولت ہوتا ہے ۔ اور شرع و عقل و عرف میں روا نہیں ہے کہ انسان اپنے تئیں ذلیل کرے ۔ اگر فقیر در بدر بھٹکتا پھرتا ہے تواس میں اور کتے میں فرق ہی کیا ہے ۔
اسلام نے ہر ہر چیز کے بارے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ، سوال کرنے کی ممانعت، کن صورتوں میں جائز اور اصل حق دار کون ہیں اس کے ساتھ ساتھ پیشہ ور گداگروں کی پہچان بھی کروا دی ہے کہ وہ لوگ کون ہیں۔ اسلام نے ان کی وضاحت لفظ “الحاف” کے ساتھ کی ہے ۔ اب معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ گیاہے بھکارن عورتیں سیدھی گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں اور اپنی مرضی سے سوال کرتی ہیں کہ مجھے یہ دو یہ دو اگر مطلوبہ چیز نہ ہو تو دوسری چیز کا مطالبہ کر دیتی ہیں ۔ اس کے بارے قرآن مجید بڑی وضا حت کے ساتھ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتا ہے کہ :
لَا یَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا
(فقیر،مسکین، حق دار)لوگوں سے لپٹ کر/ اصرارکے ساتھ /جھگڑا کرکے سوال نہیں کرتے
قرآن مجید نے بڑی وضاحت کے ساتھ اصل مسکین،فقیر یا حق دار کی نشانی بیان کر دی ہے کہ یہ لوگ کسی سے لپٹ کر یا اصرار کے ساتھ ضد کر کے سوال نہیں کرتے اولاً تو یہ سوال کرتے ہی نہیں اگر انتہائی مجبوری کی وجہ سے سوال ناگزیر ہو جائے تو صرف ایک بار شرم محسوس کرتے ہوئے کہیں گے اس سے بڑھ کر نہیں اور جو اس کے برعکس کرے یعنی لوگوں سے لپٹ کر، اصرار کے ساتھ یا جھگڑ کر سوال کرے وہ فقیر ، مسکین یا صحیح حق دار نہیں بلکہ ایک پیشہ ور گداگر ہے ۔
صدقہ وخیرات ان فقرا کا حق ہے جو اللہ کی راہ میں (کسب معاش سے ) روک دیئے گئے ہیں وہ (امور دین میں ہمہ وقت مشغول رہنے کے باعث) زمین میں چل پھر بھی نہیں سکتے ۔گداگر ذلت و رسوائی کے حق دارجب کہ فقراء و مساکین اللہ تعالیٰ کے مقربین میں شامل ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں