258

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس، واجد ضیا کا بیان ریکارڈ ہونا شروع

احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں طارق شفیع کا بیان حلفی، قطری شہزادے کا خط، گلف سٹیل ملز کی فروخت کے معاہدے اور یو اے ای حکام کو لکھے گئے ایم ایل اے کی جوابی کاپی عدالت میں پیش کر دی گئی۔ عدالت نے ایم ایل اے کے جواب کی کاپی کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔

اپنے بیان میں واجد ضیا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا اور سوال پوچھا کہ فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور دیگر کمپنیوں کے قیام کیلئے پیسہ کہاں سے آیا؟ کمپنیوں کا اصل مالک کون ہے؟ کیا حسن اور حسین نواز اپنے والد کے بے نامی دار ہیں۔ جے آئی ٹی نے فلیگ شپ ریفرنس سے متعلق یو اے ای اور برطانوی حکام کو ایم ایل ایز بھجوائے۔ یو اے ای حکام کی طرف سے ایم ایل اے کا جواب موصول ہوا۔

واجد ضیا کی جانب سے طارق شفیق کا بیان حلفی عدالت میں پیش کرنے پر خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ طارق شفیع نہ اس کیس میں گواہ ہیں نہ ہی ملزم، بیان حلفی بھی قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں، اس لیے شہادت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

واجد ضیا نے کہ بتایا کہ مکمل شواہد پیش کرنے میں دو دن لگ جائیں گے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ قطری شہزادے کو اس کیس میں بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، خط کی فوٹو کاپی بھی قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں ہے۔؂

دوران سماعت جج ارشد ملک نے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی گواہ اصل دستاویزات اپنے پاس رکھے اور کیس فارغ ہو جائے تو کیا فائدہ؟ ہمیں پتا ہے آپ نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرانا ہوتی ہیں لیکن ایک طریقہ کار ہے، اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عدالت نے ایم ایل اے کے جواب کی کاپی کو ریکارڈ حصہ بناتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں