43

آئی سی سی میں پھر امیر اور غریب بورڈز مدمقابل

آئی سی سی میں پھر امیر اور غریب بورڈز مدمقابل ہیں، چیئرمین الیکشن میں گریگ برکلے ’بگ تھری‘ کے نمائندے کی حیثیت سے سامنے آئے، عمران خواجہ چھوٹے بورڈز کے مفادات کی رکھوالی کریں گے، دوتہائی اکثریت کی شرط بڑے بورڈز کیلیے مشکل پیدا کررہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئی سی سی چیئرمین کیلیے 2 امیدواروں میں مقابلہ جاری ہے،ان میں سے ایک نیوزی لینڈ کے گریگ برکلے اور دوسرے سنگاپور سے تعلق رکھنے والے قائم مقام کونسل چیئرمین عمران خواجہ ہیں،انتخاب کے پہلے راؤنڈ میں برکلے واضح اکثریت ثابت نہیں کر رہے، جون میں ششانک منوہر کی جانب سے عہدے پر تیسری مدت میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے سبکدوش ہونے کے بعد سے یہ پوسٹ خالی ہے۔ چیئرمین سے قبل آئی سی سی کا کنٹرول صدر کے پاس ہوتا اور پہلے سے ہی تعین ہوجاتا تھا کہ نیا سربراہ کون ہوگا،2016 میں غیرجانبدار چیئرمین کی صورت میں پہلی بارمنوہر کا انتخاب ہوا جو اس ذمہ داری پر 4 برس تک فائز رہے۔ دونوں مدت کیلیے ان کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا مگر اس بات کسی ایک امیدوار پر بورڈز میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن ہو رہے ہیں۔
دونوں امیدوار الگ الگ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، بگ تھری کے حمایت یافتہ برکلے بڑے بورڈز کی طرح باہمی سیریز کو اہمیت دیتے اور زیادہ آئی سی سی ایونٹس کے حق میں نہیں ہیں، عمران خواجہ ان چھوٹے بورڈز کا نمائندہ بن کر سامنے آئے جن کا انحصار آئی سی سی کی آمدنی پر ہوتا ہے، وہ زیادہ عالمی ٹورنامنٹس کے حامی ہیں تاکہ کونسل کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ کسی ایک امیدوار پر متفق ہونے کا امکان بدستور موجود تاہم الیکشن کی صورت میں برکلے کو چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کیلیے دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے، اگر وہ 2 کوششوں میں خفیہ رائے شماری میں دوتہائی اکثریت حاصل نہیں کرتے تو پھر عمران خواجہ ہی آئی سی سی بورڈ کی تعین کردہ مدت تک بطور چیئرمین کام جاری رکھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں