50

’’اگلی عالمی وبا زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوسکتی ہے،‘‘ ماہرین

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال کورونا وائرس کی عالمی وبا کا سامنا کرنے کے باوجود ہم مجموعی طور پر کسی بھی اگلی عالمی وبا کےلیے بالکل بھی تیار نہیں؛ اور یہ بات اگلی کسی بھی وبا کو زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز بنا سکتی ہے۔
یہ بات گزشتہ روز وباؤں اور امراض کے حوالے سے عالمی تیاریوں پر نظر رکھنے والے ادارے ’’گلوبل پریپیئرڈنیس مانیٹرنگ بورڈ‘‘ (جی پی ایم بی) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہی ہے، جو بذاتِ خود عالمی ادارہ صحت کے ماتحت ادارہ ہے۔
’جی پی ایم بی‘ کے ارکان میں دنیا بھر سے درجنوں طبی ماہرین شامل ہیں جو مختلف بیماریوں کے علاقائی اور عالمی پھیلاؤ کے علاوہ ایسے انفرادی، اجتماعی، قومی اور عالمی اقدامات پر بھی نظر رکھتے ہیں جو کسی وبا کا پھیلاؤ روکنے کےلیے اختیار کیے جاتے ہیں۔
کووڈ 19 کی موجودہ عالمی وبا کے دوران اس ادارے نے مختلف حکومتوں کے عملی اقدامات اور تدابیر کا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے جس کا عنوان ’’اے ورلڈ اِن ڈس آرڈر‘‘ (بے ترتیب دنیا) ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی دوسری رپورٹ ہے جبکہ اس سلسلے کی پہلی رپورٹ گزشتہ سال منظرِ عام پر آئی تھی۔
اس رپورٹ میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے کےلیے ساری دنیا کیے گئے اقدامات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں ناکافی، غیر مناسب اور غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
حکومتی ردِعمل پر تنقید کرتے ہوئے اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ ماہرین نے ابتدائی دنوں میں ہی خبردار کردیا تھا کہ ناول کورونا وائرس کی بیماری بہت جلد ایک عالمی وبا میں بدل سکتی ہے لیکن بیشتر حکومتوں نے اس تنبیہ کو نظرانداز کیے رکھا، یہاں تک کہ ان ملکوں میں کووڈ 19 کا پھیلاؤ قابو سے باہر ہوگیا۔
رپورٹ میں اس ردِعمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر یہی رویہ جاری رہا تو اگلی کوئی بھی عالمی وبا، کووِڈ 19 کے کے موجودہ عالمگیر پھیلاؤ کے مقابلے میں زیادہ خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
واضح رہے گزشتہ 100 سال کے دوران اس دنیا کو دس مرتبہ عالمی وباؤں کا سامنا رہا ہے۔ 1918 میں ’’اسپینش فلُو‘‘ کی عالمی وبا سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوئی جس نے پانچ کروڑ سے زیادہ انسانی جانوں کا خراج وصول کیا۔
سن 2000 سے اب تک سارس، مرس اور سوائن فلو کی وبائیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ ہر صدی میں اوسطاً 3 بڑی عالمی وبائیں آتی ہیں۔
اگر ان ہی اندازوں کو بنیاد بنایا جائے تو اگلی عالمی وبا آئندہ پانچ سال سے لے کر تیس سال تک کے درمیان، کسی بھی وقت آسکتی ہے۔
اگرچہ ایسا ہونا ضروری بھی نہیں لیکن اسی امکان کے باعث وبا کےلیے تیار رہنا اشد ضروری ہوجاتا ہے۔ ’جی پی ایم بی‘ نے اس حوالے سے پانچ کلیدی نکات تجویز کیے ہیں جو نہ صرف آج بلکہ مستقبل میں کسی بھی وبا کا پھیلاؤ روکنے یا کم سے کم کرنے کےلیے لازمی کا درجہ رکھتے ہیں: ذمہ دارانہ قیادت، عوامی شراکت، حفظانِ صحت کے مضبوط اور متحرک نظام، مسلسل سرمایہ کاری، عالمی سطح پر مربوط اور منظم تیاری۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں