736

ایف بی آر کا خوف:رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں70فیصد کم،ایجنٹ دفاتربندکرنے پرمجبور

ایف بی آرکی پوچھ گچھ کے خوف سے رئیل اسٹیٹ شعبے کی سرگرمیاں70فیصد کم ہوگئیں جبکہ کئی اسٹیٹ ایجنٹس اپنے دفاتر بند کرنے پرمجبورہوگئے ،نان فائلرزپرجائیدادکی خریداری کی پابندی،مختلف ویلیوایشن اورٹیکس بڑھنے کی وجہ سے پہلے ہی رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں کم تھیں،اب ایف بی آرکی جانب سے بینک ٹرانزیکشنزاورجائیداد کی خرید وفروخت پر نظر رکھنے کی اطلاعات نے پراپرٹی شعبے کا مزید بھٹہ بٹھا دیاہے اور سرمایہ کاری کی نیت سے پلاٹ ،فلیٹ اور بنگلے خریدنے والوں کی دلچسپی ختم ہونے لگی ہے ۔ذرائع کے مطابق اس وقت صرف ذاتی رہائش کیلئے مکان خریدنے والے ہی رہ گئے ہیں جب کہ جو لوگ جائیداد کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو دیکھتے ہوئے اس شعبے میں سرمایہ کاری کررہے تھے وہ رک گئے ہیں،اس کی وجہ ایجنٹس یہ بتاتے ہیں کہ ایک جانب انتخابات سے قبل ایمنسٹی اسکیم اورپھرجائیداد کی خریداری کے لئے فائلرکی شرط سے بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ الیکشن کے بعد بھی تاحال برقرار ہے ،جس میں حکومت کی جانب سے پہلے فائلر کی شرط ختم کی گئی اور بعد ازاں یہ شرط پھر شامل کردی گئی لیکن ابھی تک نان فائلرزکے لئے 50لاکھ کی پراپرٹی خریدنے کی اجازت کا ایس آراو جاری نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے نان فائلرز کی خرید وفروخت مکمل طور پربند ہے ۔دوسری جانب یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ غیرمعمولی بینک ٹرانزیکشن کرنے والوں کو ایف بی آرکی جانب سے نوٹس دئیے جارہے ہیں جس میں پوچھا جارہا ہے کہ یہ سرمایہ ان کے پاس کہاں سے آیا؟۔ جائیداد خریدنے یا بیچنے والوں کو بھی اپنا سرمایہ قانونی ثابت کرنے میں دقت پیش آئے گی جس کے خوف سے پراپرٹی کی خرید وفروخت سے گریز کیاجارہاہے ۔اسٹیٹ ایجنٹس کاکہنا ہے کہ حکومت کواس شعبے کے لئے موثر میکنزم طے کرناچاہیے تاکہ لین دین کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں