72

ایم کیو ایم پاکستان پر پابندی لگائی جائے، مصطفیٰ کمال کا مطالبہ

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے ایم کیو ایم (پاکستان) پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔
پی ایس پی کے مرکز پاکستان ہاؤس میں پاک سرزمین پارٹی کے صدر انیس قائمخانی، ارشد وہرا، شبیر قائمخانی سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ڈی جی آئی ایس پی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے روابط کے ٹھوس شواہد کا انکشاف کیا ہے، ایم کیو ایم کا نام، جھنڈا اور نشان دیکھ کر عوام کو خالد مقبول صدیقی اور عامر خان نہیں بلکہ الطاف حسین یاد آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلیے کام کرتے رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں دکھائے جانے والے کراچی سے گرفتار’’را‘‘ ایجنٹس شاہد متحدہ اور عادل انصاری شامل تھے، شاہد متحدہ نے جے آئی ٹی میں اقرار کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کنوینر اور رکن قومی اسمبلی خالد مقبول صدیقی خود انھیں بھارت میں ٹریننگ کے لیے را کے حوالے کر کے آئے تھے، اسلحہ بھی ان کے موجودہ گھر میں چھپایا گیا تھا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی الطاف حسین کی ہدایت پر بھارت گئے اور پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنا پاکستانی پاسپورٹ پھاڑ دیا جس کی وجہ سے انھیں حکومت ہندوستان نے بھارتی ڈپلومیٹک پاسپورٹ دیا جس پر وہ امریکا روانہ ہوئے، امریکا پہنچنے پر خالد مقبول صدیقی کا نام نان ڈیزیگنیٹڈ لسٹ آف ٹیررسٹ میں شامل کیا گیا، وہی خالد مقبول صدیقی13سال بعد پاکستان واپس آکر نہ صرف ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ، ایم این اے اور وزیر بن جاتے ہیں بلکہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کے لیے نفیس انسان بھی ہوجاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ خالد مقبول صدیقی کے ایک رائٹ ہینڈ18سالوں سے بھارت میں را کے لیے کام کررہے ہیں جبکہ دوسرے ساتھی کینیڈا میں20 سالوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا سیٹ اپ چلا رہے ہیں، ایم کیو ایم رہنماؤں کو چاہیے ہماری طرح سچ بولنے کا حوصلہ کریں اور اپنے نئے نام، جھنڈے اور نشان کے ساتھ سیاست کریں، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی پریس کانفرنس میں اس سے کہیں زیادہ تہلکہ خیز انکشافات کروں گا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ سیاسی بحران سے بچنے کے لیے ایم کیو ایم کے اراکین قومی، صوبائی اور سینیٹرز کو فی الحال حکومت کا حصہ رہنے دیا جائے، حکومت کے پاس فروغ نسیم سمیت بڑے قانون دان موجود ہیں، جو حکومت کے لیے بحران پیدا کیے بغیر آئینی راستہ نکال سکتے ہیں، بھارت پاکستان پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار ہے، کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا ہے۔
مصطفی کمال نے مشترکہ کانفرنس میں پیش کیے جانے والے شواہد اور انکشافات کی روشنی میں ایم کیو ایم پاکستان پر فوری پابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔
مصطفی کمال کے الزامات سیاسی دیوالیہ پن ہیں، ترجمان ایم کیو ایم
ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے مصطفی کمال کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی پر بے بنیاد الزامات کو کھسیانا پن قرارداد دیتے ہوئے یکسر مسترد کیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ شہری سندھ کے مسترد کردہ مصطفی کمال کی پریس کانفرنس جھوٹ کا پلندہ ہے ، کل تک ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے گن گانے والے مصطفی کمال کے بے بنیاد الزامات کو سیاسی دیوالیہ پن ہیں، ایم کیو ایم پاکستان اور اس کے کنوینر پاکستان کے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے عوامی جدوجہد کر رہے ہیں جو مصنوعی سیاستدانوں کو گراں گزرتی ہے، ماضی میں بھی مصطفی کمال ایم کیو ایم پاکستان اور پتنگ کو دفن کرنے کے دعویدار رہے لیکن انتخابات میں شہری سندھ کے عوام نے ان کی مصنوعی جماعت اور اس کے نشان کو دفن کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ مصطفی کمال کو پہلے بھی شہری سندھ کے عوام جھوٹ اور گالی گفتار پر مبنی انداز سیاست کے باعث مسترد کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہوتا نظر آ رہا ہے۔مصطفیٰ کمال کی سیاست کا چراغ گْل ہونے سے پہلے بھڑک رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں