83

بارش کے بعد کراچی کی شاہراہوں پر کیا چیز تیرنے لگی

مون سون کے چھٹے سپیل نے شہر قائد میں تباہی مچا دی۔ کورنگی کراسنگ اور کیماڑی میں کہیں پانی نکل گیا تو کہیں حالات جوں کے توں، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، کے پی ٹی انڈرپاس میں پانی بھرگیا سی بریز پر کنٹینرز پانی میں ‌تیرتے رہے. پیراڈائز اور کورنگی کراسنگ پر 2 افراد جاں بحق جبکہ پانی میں بہہ جانے والے کئی افراد کی تلاش جاری ہے۔
ملیر کا کوہی گوٹھ پانی پانی ہوگیا۔ بارش کے 24 گھنٹے بعد بھی گلیوں، سڑکوں اور گھروں سے پانی نہ نکل سکا۔ برساتی ریلے میں جانور مر گئے۔ گھروں کا قیمتی سامان بہہ گیا، شہری بے یارو مددگار غیبی امداد کے منتظر ہیں۔
علی مراد گوٹھ بھی سیلاب زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کئی فٹ پانی اب بھی گھروں اور گلیوں میں کھڑا ہے، نکاسی آب نہ ہونے سے علاقہ مکین شدید پریشانی کا شکار ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔
کلفٹن میں 2 تلوار کے قریب کے پی ٹی انڈرپاس میں پانی بھرگیا جس کے بعد دونوں اطراف سے انڈر پاس کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا، دوسری جانب ایم اے جناح روڈ تبت سینٹر اور سی بریز پر کنٹینرز پانی میں تیرتے نظر آئے، شہری اپنی مدد آپ کے تحت کنٹینر کو مصروف شاہراہ سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔
بارشوں سے اس بار سب سے زیادہ ضلع ملیر متاثر ہوا، خصوصاً مضافات میں بسنے والوں کی تو زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔
وفاقی وزیر علی زیدی نے صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے قائد آباد کا دورہ کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کمیٹی کمیٹی بہت کھیل لیا، اب ایکشن کا وقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں