473

بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں شیریں فرہاد کی قبور دور حاضر کے عاشقوں کو حاضری کی دعوت دے رہی ہیں

یہ بلوچستان کے علاقے لسبیلہ کے ڈھائی سو کلو میٹر دو ایک علاقے کی ہے۔ مقامی زبان میں شیر Sheer دودھ کو کہا جاتا ہے اور ٹھنڈا پانی بھی شیر کہا جاتا ہے۔ جہا ں یہ بستی تھی وہاں پہاڑ کے اوپر چشمہ تھا جس کا پانی دوسری طرف گرتا تھا اور اس کو لانے کیلئے پہاڑ کو چوٹی سے اتنا کاٹنا پڑتا کہ چشمہ بستی کی طرف بہنا شروع ہو جائے۔ شیریں کے سردار باپ نے فرہاد کے سامنے یہ شرط رکھ دی۔ فرہاد نے بہت بڑا حصہ کاٹ دیا۔ دوسرے دن وہ کام مکمل کرلیتا۔ شیریں کے باپ نے اپنے وزیر کو کہا اور اس نے کالا پتھر اس مقام پر دبا دیا جہاں صبح فرہاد نے آخری کدال چلانی تھیں۔ شیریں کو صبح صادق کو پتہ چلا کہ تو وہ پہاڑ کی طرف بھاگی۔ فرہاد اس وقت تک اوپر چڑھ چکا تھا۔ شیریں کو آتے دیکھا تو بہت جذبے میں کدال ماری۔ کالا پتھر انتہائی سخت اور چکنا ہوتاہے۔ کدال اچھلی اور فرہاد کی پیشانی میں گھس گئی۔ وہ دوسری طرف نیچے جاگرا۔ شیریں جب اوپر پہنچی اور منظر دیکھا تو حواس کھو بیٹھی اور نیچے گری۔ عین اس مقام پر جہاں فرہاد گرا ہوا تھا۔ کدال کا دوسرا سرا شیریں کے سر میں گھس گیا اور دونوں وہیں فوت ہو گئے۔ دونوں کی قبریں آج بھی پہاڑ کے دامن میں اسی مقام پر اکٹھی موجود ہیں۔(تحریر: غلام رسول بٹ‘بشکریہ نعیم مرتضیٰ مو¿رخ ‘ محقق اور ادیب)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں