57

بچوں کی نشو و نما کیلئے 350 ارب روپے لاگت کے پروگرام کی منظوری

مشترکہ مفادات کونسل نے بچوں میں غذائیت کی کمی اسٹنٹنگ روکنے کے لیے ملک گیر پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کرلیا ہے جب کہ توانائی سے متعلق قوانین پر وزیر اعلیٰ سندھ کے تحفظات کی وجہ سے اتفاق نہیں ہوسکا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق بچوں کے پانچ سالہ نشوونما پروگرام پر 350 ارب روپے لاگت آئے گی۔ نشوونما پروگرام کے لیے 50 فیصد رقم وفاق اور 50 فیصد رقم صوبے فراہم کریں گے۔ منصوبے کے تحت ملک کی 30۔فیصد آبادی نشونما پروگرام سے مستفید ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت غذائیت سے متعلق اضافی اجناس ، ہیلتھ ورکرز کی استعداد سازی اور نگرانی فراہم کرے گی۔ صوبے ہیلتھ ورکرز ، ٹارگٹ آبادی کی نشاندہی ، پروگرام پر عمل درآمد میں حصہ لیں گے۔
کونسل نے خیبر پختونخوا حکومت کی ایک ایکسپلوریشن بلاک کے دوسرے بلاک کے ساتھ تبادلے کی درخواست پر بھی غور کیااور ایکسپلوریشن بلاک کے تبادلہ کی مشروط منظوری دے دی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ خیبر پختونخواہ حکومت پچھلے ایوارڈ کی کمٹمنٹس کو مکمل کرے۔ کونسل کی پیٹرولیم ڈویژن کو آئندہ تبادلے کی درخواست کے لئے ایک وقت کی حد مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مشترکہ مفادات کونسل نے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد پر بھی غور کیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں توانائی کے بڑھتے مسائل دور کرنے کےلئے مشترکہ مفادات کونسل کا اگلا اجلاس آئندہ سال جنوری میں ہوگا جس میں بجلی، گیس، تیل اور پانی سے متعلق امور پر غور ہوگا۔
وزیر اعظم کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ توانائی مسائل کے ملک گیر اثرات ہوتے ہیں۔ توانائی کے امور پر صوبوں میں اتفاق رائے ہونا چاہیئے تاکہ عوام کو فائدہ ہو۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے تحفظات
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے تحفظات کے باعث اوگرا ترمیمی آرڈیننس کی منظوری موخر ہوگئی اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ نے نیپرا ترمیمی بل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے معاون خصوصی ندیم بابر کو وزیراعلیٰ سندھ کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ایل این جی کی درآمد اور قیمت پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایل این جی کی درآمد اور قیمتوں پر اعتراضات کیے۔
پانی کی تقسیم
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پانی کی تقسیم کے 1991 کے معاہدے پر پیرا 2 پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پانی کی تقسیم کے معاہدے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کی سفارشات پر غورکیا گیا۔
علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کے حوالے سے کونسل کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں