47

بچیوں کی شادی کیلئے کم از کم عمر18 سال مقررکی جائے، خواتین ارکان اسمبلی

خواتین ارکان اسمبلی اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ بچیوں کی شادی کے لئے کم از کم عمر 18سال مقرر کی جائے۔
ان خیالات کااظہار سماجی تنظیم برگد کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر صبیحہ شاہین،رکن اسمبلی سعد یہ سہیل رانا،بشریٰ انجم بٹ،عظمیٰ کاردار،سائقہ رانی سمیت سول سوسائٹی کی خواتین نے لاہورپریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صبیحہ شاہین نے کہا 16 سال کی عمر شادی کی عمر قرار دی گئی۔بچیوں کی شادی ےلئے کم از کم عمر 18سال مقرر کی جائے۔سپریم کورٹ نے کہا ہے شناختی کارڈ پہ شادی ہونی چاہئے۔پنجاب میں قانون سازی کر کے 18 سال کی عمر شادی کی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں خواتین ممبران نے اس ایشو پر ہمارا ساتھ دیا ہے۔آنے والے اسمبلی کے سیشن میں اس ایشو کو لانے کے حوالے سے کوشش کریں گے۔بشریٰ انجم بٹ نے کہااس ایشو پر سب جماعتیں اکٹھی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ یہ معاملہ اسمبلی میں نہیں آرہا۔ہماری آبادی بھی اسی لئے کنٹرول میں نہیں کہ 14 ، 14 سال کی عمر میں شادیاں کر دی جاتی ہیں۔کیا ایسا مسئلہ ہے کہ ہماری حکومت اس بل کو اسمبلی میں نہیں لا پا رہی۔
انہوں نے نے کہا کہ ہم ایشو پہ سیاست نہیں کریں گے ہم چاہتے ہیں کہ سب اکٹھے ایشو کو اسمبلی میں لائیں۔میڈیا کے ذریعے بھی اس ایشو پر آگاہی مہم چلانی ہوگی۔
سعدیہ سہیل رانا نے کہاپچھلی حکومت میں اسلامی نظریاتی کونسل سے یہ ایشو مسترد کر دیا گیا۔اب جب یہ نظریاتی کونسل میں گیا ہے تو وہاں سے ہمیں اس معاملے میں سپورٹ کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے آئی ڈی کارڈ کی شرط شادی کے لئے رکھی ہے۔حکومت اس بل کو اپنی طور سے لے کر آئے گی۔آنے والے اسمبلی اجلاس میں اس ایشو کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔13,14 سال کی بچی کو ہم گھر کی قیمتی چیز نہیں پکڑاتے کہ کہیں گما نہ دے۔لیکن ہم اسے کم عمری میں ہی اگلی نسل کی ذمہ داری دے دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کمزور ماں جب کمزور بچے پیدا کرتی ہے تو معاشرے میں طاقت کی بجائے بوجھ بنے گا۔یہ بات ہماری بیٹیوں اور بچیوں کی ہے، ان کی صحت کے لئے یہ جدوجہد کر ریے ہیں۔مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہیں۔ہم سب اپنی جماعتوں سے بالاتر ہو کر اس پہ قانون سازی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں