294

جعلی اکاؤنٹس؛ آصف زرداری کیخلاف دو خواتین کی وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست

جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدرآصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپوراحتساب عدالت میں پیش ہوگئے جبکہ دو خواتین ملزمان نے وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست کردی۔
جعلی بینک اکاؤنٹس اورمیگا منی لانڈرنگ کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اوران کی ہمشیرہ فریال تالپوراحتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کیس کی سماعت کی۔
وکیل فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کو حاضری سے استثنیٰ دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو ماحول بنایا گیا ہے صرف آصف علی زرداری کی وجہ سے ہے، آصف زرداری اور فریال تالپور کو حاضری سے استثنیٰ دے دیں تو ٹرائل بہتر چلے گا۔
وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف زرداری منصفانہ ٹرائل چاہتے ہیں، کمرہ عدالت چھوٹا ہے، 26 ملزمان اور 26 وکلاء پھر میڈیا نمائندے بھی ہوں گے، زبانی درخواست کررہا ہوں، آصف زرداری کو استثنی دے دیں جس پر جج نے کہا کہ کوئی طریقہ کار بناتے ہیں جس سے آپ کو بھی آسانی ہواور ہمیں بھی۔
کیس میں اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ پہلی پیشی پر ہی دو خواتین ملزمان نے گواہ بننے کی درخواست دائرکر دی۔ کرن اور نورین نامی دو خواتین نے گواہ بننے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا نام ملزمان میں ہے لیکن ہم گواہی دینے کو تیار ہیں، ہم نے چیئرمین نیب جاوید اقبال کو بھی درخواست لکھی ہے۔
جج ارشد ملک نے ان سے کہا کہ کیا آپ وعدہ معاف گواہ بنیں گی؟ جس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آصف زرداری سمیت دیگر ملزمان کے وکلا نے ملزم خواتین کے گواہ بننے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وعدہ معاف گواہ بننے کا مرحلہ نہیں۔
جج نے نیب پراسیکیوٹر سے خواتین کی درخواست کے بارے میں استفسار کیا تو نیب پراسکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ مجھے دیکھنا ہوگا کہ انہوں نے کوئی درخواست نیب میں دی ہے یا نہیں۔
عدالت نے خواتین کو الگ الگ تحریری درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی۔ آصف زرداری کی پیشی کے موقع پراسلام آباد پولیس نے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے اور 1650 پولیس اہلکار نیب عدالت کے اطراف تعینات رہے جن میں رینجرز اور اسپیشل برانچ کے اہلکاربھی شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں