125

حج اخراجات میں اضافے کی گونج سینیٹ تک پہنچ گئی

رواں سال سرکاری حج پر اخراجات میں اضافے کی گونج سینیٹ تک جاپہنچی۔
چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات بڑھنے پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ تحریک انصاف نے کہا تھا کہ مدینے کی ریاست بنائیں گے، عوام کو مذہبی امور پر سہولیات کے حوالے سے امید تھی لیکن حج اخراجات میں 60 فیصد سے زائد اضافہ کردیا گیا ، حج اخراجات 2 لاکھ 80 ہزارسے بڑھا کر 4 لاکھ 56 ہزار کر دیئے گئے، وزارت مذہبی امور کی حج پر سبسڈی کی درخواست کو قبول نہیں کیا گیا، اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی کہا کہ حج پر سبسڈی دے سکتے ہیں۔ حکومت کے فیصلے کو حج پرڈرون حملہ سمجھتا ہوں، اس سال ایک لاکھ 84 ہزار پاکستانی حج ادا کریں گے، حکومت حاجیوں کی بددعائیں نہ لیں، سینما گھروں کی بحالی پر اربوں خرچ کرتے ہیں تو خدارا حج پر بھی سبسڈی دیں۔
پیپلز پارٹی کے رضا ربانی نے استفسار کیا کہ کیا وزیر مذہبی امور ناراض ہیں کہ وہ ایوان میں نہیں آئے، جس پر قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز نے جواب دیا کہ وہ ناراض نہیں۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد نے حج اخراجات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیا کہ ہم مدینہ کی ریاست کے موقف پر قائم ہیں، سابق حکومت نے الیکشن سال کے باعث حج اخراجات نہیں بڑھائے تھے، سعودی عرب اب 94 ہزار 185 روپے بلڈنگ کے لے گا، خوراک کے چارجز 23 ہزار 606 سے 38 ہزار ہو گئے، مدینہ اکاموڈیشن چارجز 23 ہزار 200 سے 40 ہزار ہو گئے، قربانی 13 ہزار 50 روپے سے 19 ہزار تک ہوگئی، زم زم 290 روپے سے 409 کا ہو گیا، لگیج چارجز 580 روپے سے 890 روپے ہوگئے۔ کیا حکومت یہ بوجھ کہیں اور ڈالے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں