7

حکایت سعدی — بقاء کا آغاز فنا سے!

گھاس پھوس کے ڈھیر میں رہنے والے ایک مچھر نے حضرت سلیمان ؑکے دربار میں آکرفریاد کی ”اے خدا کے سچے پیغمبر سلیمان ؑ، ذرا میری بات بھی سن لیجئے، فیصلہ کردیجئے۔ میں نے سنا ہے کہ آپ ؑ اِنس و جن سب کے جھگڑوں کا فیصلہ فرتے ہیں۔ ہوا میں اڑنے والے پرندے اور دریا میں تیرنے والی مچھلیاں سب آپؑ کے انصاف کے گن گاتے ہیں۔ اس کرۂ ارض پر وہ کون بدبخت ہے جس نے اپنی مشکل میں آپ ؑ سے بیان نہ کی ہو، اور انصاف نہ مانگا ہو۔ اب ہماری مشکل بھی آسان کیجئے۔ ہم بہت تکلیف میں ہیں اور انصاف سے ہماری جنس محروم ہے۔‘‘
مچھر کی یہ درد بھری فریاد سن کر حضرت سلیمان ؑنے فرمایا ، ”اے انصاف طلب کرنے والے جلد اپنی شکایت بیان کر۔ وہ کون ظالم ہے جس نے ازراہِ غرور تجھے ستایا اور تنگ کیا؟ بھلا ہماری حکومت میں یہ جرأت کس کی ہے کہ مخلوقِ خدا پر ظلم کرنے میں اسے کوئی روک ٹوک نہ ہو؟‘‘
مچھر نے عرض کیا ”اے حضرت سلیمان ؑ ! ہم ہوا کے ہاتھوں بڑی مصیبت میں ہیں۔ اب حد درجہ پریشان ہو کرآپ ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے ساتھ عدل کیجئے۔ ‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام نے جواب دیا ”اے سریلی آواز والے مچھر، خدا کا فرمان میرے لیے یہ ہے کہ مدعی کی فریاد پر اس وقت تک کان نہ دھروں جب تک مدعا علیہ کی بات نہ سن لوں۔ مدعی خواہ ہزار غل غپاڑا کرے، لیکن مدعا علیہ کا جواب سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ کروں۔ بھلا میری کیا مجال کہ فرمانِ خدا سے سرتابی کا خیال کبھی بھی دل میں لائوں۔ لہٰذا ابھی جا اور ہوا کو میری خدمت میں حاضر ہونے کا حکم دے‘‘۔
مچھر نے خوفزدہ ہو کہ کہا ”حضور، میری کیا مجال کہ ہوا کو حکم دوں اور اسے آپؑ کے دربار میں لائوں، وہ آپؑ کے حکم کی تابع ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے آواز دی ”اے ہوا ! مچھر نے تیرے خلاف ہماری عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے۔ تاریکی سے باہر نکل، اپنے مدعی کے برابر آ اور اپنی صفائی میں جو کچھ کہو‘‘۔
حضرت سلیمان ؑ کا حکم ہوتے ہی ہوا فراٹے بھرتی ہوئی آئی۔ اس کا آناتھا کہ مچھر کا دم ہوا ہوا۔ ٹھہرنے کی تاب کہاں تھی، فوراً بھاگ نکلا۔ حضرت سلیمان ؑنے کہا ”ارے مچھر، جاتا کہاں ہے؟ ذرا رک ، تیرے مخالف فریق کی بات بھی سن لوں۔‘‘
مچھر نے پلٹ کر جواب دیا ”اے جلیل القدر بادشاہ، ہوا کا وجود میرے لیے موت ہے۔ جہاں یہ آجائے، وہاں میں کیوں کر ٹھہر سکتا ہوں؟ اسے دیکھتے ہی میری آدھی جان نکل جاتی ہے۔‘‘ یہ کہا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔
اے عزیز ،یہی کیفیت حق تعالیٰ کے ڈھونڈنے والے کی ہوتی ہے۔ جہاں حق نے جلوہ کیا، وہیں ڈھونڈنے والا غائب ہوا۔ بے شک ، یہ ہمیشہ باقی رہنے والا جمال ہے لیکن اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس بقاء کا آغازہی اپنی فنا سے ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں