40

خاتون رکن اسمبلی کا معاملہ؛ طلال چوہدری پولیس کو بیان دیے بغیراسپتال سے غائب

مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کے مبینہ تشدد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے آنے والی فیصل آباد پولیس کی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی اسپتال سے غائب ہوگئے۔
فیصل آباد سے آنے والی تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج اے ایس پی عبد الخالق نے بتایا کہ آج ہماری طلال چوہدری سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ اسپتال کے عملے نے بتایا کہ انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ پہنچنے پر پتا چلا کہ ایک گھنٹہ پہلے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری سے دوبارہ جلد رابطہ کیا جائے گا اور بیان لینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری پولیس کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی نجی اسپتال سے چلے گئے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما نے اپنا ایگزیکٹیو روم بھی خالی کر دیا۔
مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کی جانب سے تشدد کے واقعے کی تحقیقات کے لیے فیصل آباد پولیس کی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم انچارج اے ایس پی عبدالخالق کی سبراہی میں طلال چوہدری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے لاہور کے نجی اسپتال پہنچی۔
پولیس حکام کے مطابق پولیس کو دونوں فریقوں کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم وقوعے کی رات طلال چوہدری کی جانب سے 15 پر موصول ہونےو الی کال پر پولیس نے بروقت کارروائی کی تھی۔ پولیس کے موقعے پر پہنچنے کے بعد طلال چوہدری لاہور کے نجی اسپتال میں داخل ہوگئے تھے۔
فیصل آباد پولیس کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری پر تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے دونوں فریقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ اگر کسی کی طرف سے کارروائی کی درخواست نہ دی گئی تو پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں