276

خواتین ڈاکٹرز اور نرسوں کو بلیک میل کرنے والے جعلی افسر کو 24 سال قید

انسداد دہشت گردی عدالت نے لیڈی ڈاکٹرز اور نرسوں کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کر کے بھتہ وصول کرنے والے ملزم کو قید و جرمانے کی سزا سنا دی۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے لیڈی ڈاکٹرز اور نرسوں کو سوشل میڈیا پر بلیک میل کر کے بھتہ وصول کرنے والے ملزم کو قید و جرمانے کی سزا سنا دی، عدالت نے ملزم کو مجموعی طور پر 24 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
ملزم عبدالوہاب عرف فیصل نیازی عرف کیپٹن نبیل کے خلاف مقدمے میں مجموعی طور پر 31 گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کروائے، اور جرم ثابت ہونے پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج شیخ سجاد احمد نے ملزم کو سزا سنائی۔ عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں ملزم کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت 14 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 6 ماہ قید کی سزا بھگتنا ہو گی۔
ملزم کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419 کے تحت ملزم کو 7 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جب کہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 3 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔ ملزم کو ٹیلیگرافک ایکٹ کی خلاف ورزی پر بھی 3 سال قید اور ایک سال جرمانہ کی سزا سنائی گئی، جرمانے کی عدم ادائیگی پر ملزم کو مزید 3 ماہ جیل میں گزارنا ہوں گے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو دی گئی تمام سزاوں پر بیک وقت عملدرآمد ہو گا۔
ملزم کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سلمان کاظمی نے تھانہ گوالمنڈی میں 2015 میں مقدمہ درج کروایا تھا، جس میں ملزم کیخلاف لیڈی ڈاکٹرز کے واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرنے، نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے اور بھتہ مانگنے، خود کو ملٹری انٹیلی جنس کا افسر ظاہر کرنے کے الزامات تھے۔
ملزم عبدالوہاب کو سی آئی اے پولیس نے ناران سے گرفتار کیا تھا، اور گرفتاری کے وقت پولیس نے ملزم کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور تصاویر بھی برآمد کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں