60

درد شقیقہ، اسباب اور علاج

درد شقیقہ عام سردرد سے مختلف ہوتا ہے جس کے دوران سر کے کسی ایک حصے یا آدھے سر میں شدید درد ہوتا ہے اور آنکھیں شدید روشنی برداشت نہیں کرسکتی۔
بعض اوقات سردرد کے ساتھ قے بھی ہونے لگتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اس کو جدید ایلوپیتھی اصطلاح میں میگرین Migraine بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پورے سر میں ہوتا ہے مگر آدھے سر میں کم اور آدھے میں زیادہ ہوتا ہے۔ میگرین شدید نوعیت کا درد ہے جو مریض کو کسی کام کاج کا نہیں چھوڑتا۔ بھنوؤں کے اوپر اور ملحقہ حصے کا درد بھی میگرین ہی کی ایک قسم ہے۔
آدھے سر کا درد خون کی شریانوں کے بڑھے اور اعصاب سے کیمیائی مادوں کی ان شریانوں میں ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کے دورے کے دوران ہوتا یہ ہے کہ کنپٹی کے مقام پر جلد کے نیچے رگ پھول جاتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں کچھ کیمیائی مادے پیدا ہوکر سوجن اور درد کے ذریعے رگ کو مزید پھلادیتے ہیں جس سے دفاع میں اعصابی نظام ، متلی ، پیٹ کی خرابی اور قے کا احساس پیدا کرتا ہے۔
علاوہ ازیں اس کی وجہ سے خوراک کے ہضم ہونے کا عمل بھی سست پڑجاتا ہے۔ دوران خون کے سست پڑنے سے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑسکتے ہیں اور روشنی اور آواز کی حساسیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جسم کو ایک طرف کمزوری کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔
میگرین کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ مریض کے سر کے پیچھے حصے میں درد ہوتا ہے۔ اس کی وجہ پرانا بلڈپریشر بھی ہوتا ہے اور یہ سر کا درد دورہ دار ہوتا ہے جو بالعموم دائیں یا بائیں جانب نصف سر میں ہوا کرتا ہے یا پھر طلوع آفتاب کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب کے وقت ختم ہوجاتا ہے۔ کبھی سر شام شروع ہوکر رات پھر رہتا ہے اور صبح ٹھیک ہوجاتا ہے۔ دن کے دورے زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ضدی مرض ہے۔ اس کا علاج چالیس سال سے پہلے کروالینا چاہیے ۔ چالیس سال کے بعد یہ بہت زیادہ زور پکڑلیتا ہے اور بہت ہی مشکل سے جاتا ہے۔
آدھے سر کے درد کے لیے ڈاکٹر طرز زندگی بدلنے کی تجاویز دیتے ہیں۔ یوں تو میگرین یعنی آدھے سر کے درد سے ہر دوسرا شخص متاثر ہوتا ہے۔ تاہم بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ دراصل یہ درد ہوتا کیوں ہے۔
آدھے سر کا درد ہوا اور ساتھ ساتھ دوسری ذمہ داریاں ہوں جیسے گھر کے کام آفس کے کام ہوں تو کچھ لوگ درد کو کم کرنے کے لیے بدحواسی میں دھڑا دھڑ درد کو کم کرنے والی گولیوں کا استعمال شروع کردیتے ہیں تاکہ جلد سے جلد اپنی ذمہ داریاں پوری کرسکیں لیکن پریشانی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب بیک وقت درد کم کرنے والی دو یا دو سے زیادہ گولی کھانے پر بھی افاقہ نہ ہو۔
کسی بھی مسئلے کا حل اس وقت تک نہیں نکل سکتا جب تک اس کی وجوہات کو نہ جان لیا جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق آدھے سر کا درد اس وقت شروع ہوتا ہے جب دماغ میں غیر معمولی طور پر فعال خلیے چہرے کے سہ شانی عصب (trigeminal nerve) کو سگنل بھیج کر اس کو حرکت میں لاتے ہیں۔ نتیجتاً اس عصب کے فعال ہونے سے دماغ میں ایک خاص کیمیکل خارج ہونا شروع ہوجاتا ہے جس کو کیلسی ٹونن جین ریلیٹڈ پیٹائڈ calcitonin -gene related peptide
یا سی جی آر پی کہا جاتا ہے ۔ سی جی آر پی دماغ کی شریانوں میں سوجن کا باعث بنتا ہے اور یوں مریض آدھے سر کے درد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
آدھے سر کے درد کا تعلق بنیادی طور پر اعصاب سے ہے جو کہ عمر کے کسی بھی حصے میں لاحق ہوسکتا ہے یہ بچوں اور بڑوں دونوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم دیکھنے میں آیا ہے اس بیماری میں زیادہ تر خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ چوں کہ یہ ایک اعصابی بیماری ہے لہٰذا اکثر مریضوں کو ان کی علامات کی بنیاد پر اعصاب کو پرسکون کرنے والی دوائیں دی جاتی ہیں۔
یہ بیماری دماغ میں ایک کیمیکل کے خارج ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے تاہم عام طور پر ڈاکٹر اس کی مختلف وجوہات بیان کرتے ہیں۔ جیسے ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے سکونی، نیند کی کمی، کم بلڈ پریشر، نظر کی کمزوری، لینز پہننے سے آنکھوں میں تھکن ، ذہنی تھکن، بعض پودوں سے الرجی اور بعض اوقات کیفین اور کھٹی خوراک اس کا باعث بن جاتی ہے۔ خواتین کی ماہواری کے دوران یا اس کے کچھ دن پہلے اکثر اوقات میگرین کا مسئلہ ہوجاتا ہے کیوں کہ اس کے دوران ہارمونل تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
یوں تو اس درد کو کم کرنے کے لیے بہت ساری ادویات ہیں مگر ان سے بھی ہر ایک کو فوراً فائدہ نہیں ہوتا اور 48گھنٹے کے بعد یہ درد خود بخود ختم ہوجاتا ہے مگر امریکا کے ایک فارماسوٹیکل کمپنی نے ایک ایسی گولی ایجاد کرنے کی خوش خبری دی ہے جسے کھانے سے دماغ سے خارج ہونے والا کیمیکل سی جی آر پی ہلاک ہوجائے گا اور آدھے سر کے درد کو فوری نجات ملے گی۔ گولی کا نام ہے (Nortec-ODT) یہ گولی منہ میں رکھنے سے خود بخود گھل جاتی ہے۔ اس سے مریض ایک گھنٹے کے اندر درد سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔
دوسرے علاج: میگرین کا تعلق اعصاب کی بے سکونی اور بے آرامی سے ہے لہٰذا یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔
مریض دماغ کو قوت دینے والی غذائیں کھائے۔ بازار سے چاروں مغز اور اس میں 25گرام بادام اور 10گرام اخروٹ ملاکر پیس کر دودھ کے ساتھ اس کا حریرہ بناکر صبح اور شام اس کا استعمال کریں۔
ہومیوپیتھک علاج: سینگونیریا:دائیں جانب کا درد سر سورج کے ساتھ آتا جاتا ہے۔
سیبائجلیا:بائیں جانب کا درد سر سورج کے ساتھ بڑھتا اور گھٹتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں