233

دنیا کے 80 فیصد بچے سستی اور کاہلی کے شکار ہیں، تحقیق

عالمی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 11 سے 17 سال کی عمر کے 80 فیصد بچے بہت کم جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جس سے ان کی ذہنی اور جسمانی، دونوں طرح کی نشوونما متاثر ہورہی ہے۔
واضح رہے کہ بڑھتے بچوں میں 11 سے 17 سال تک کا زمانہ ’’نوبلوغت‘‘ بھی کہلاتا ہے کیونکہ اسی دوران وہ بچپن سے آگے بڑھ کر بالغ ہونے کی سمت بڑھتے ہیں۔ یہ مرحلہ 16 سے 17 سال تک کی عمر تک مکمل ہوجاتا ہے جس کے بعد ’’جوانی‘‘ کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔
نوبلوغت کو اس وجہ سے بھی اہمیت دی جاتی ہے کہ اس دوران بچوں میں جسمانی، دماغی، نفسیاتی اور جذباتی طور پر کئی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک مکمل ہوجاتی ہیں۔ تاہم، اگر ان تبدیلیوں میں کسی بھی وجہ سے رکاوٹ آجائے یا ان کی سمت صحیح نہ رہے تو پھر یہ ساری زندگی کا مسئلہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ نوبلوغت کے مرحلے پر بچوں کو روزانہ کم سے کم ایک گھنٹے تک جسمانی سرگرمیوں میں ضرور مصروف رہنا چاہیے، خواہ وہ اوسط درجے کی ہوں یا شدید نوعیت کی۔ لیکن حالیہ مطالعہ اس حوالے سے تشویشناک صورتِ حال پیش کررہا ہے۔
معروف طبی تحقیقی جریدے ’’دی لینسٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسینٹ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے 146 ممالک کے 16 لاکھ بچوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جو 2001 سے 2016 کے دوران جمع کیے گئے تھے۔ اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں نوبلوغت کے مرحلے سے گزرنے والے 81 فیصد بچے روزانہ ضروری جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے اور کسی نہ کسی وجہ سے سستی اور کاہلی میں مبتلا ہیں۔
یہ صورتِ حال اس وجہ سے تشویشناک ہے کیونکہ 11 سے 17 سال کی عمر میں بچے کی درست نشوونما کا انحصار بڑی حد تک ان جسمانی سرگرمیوں پر بھی ہوتا ہے کہ جن میں وہ روزانہ حصہ لیتا ہے؛ اور اگر عمر کے اس حصے میں بچے کی نشوونما متاثر ہوجائے تو اس کے منفی اثرات ساری زندگی برقرار رہتے ہیں۔
اسی مطالعے میں دوسرا اہم انکشاف یہ بھی ہوا کہ نوبالغ لڑکوں کے مقابلے میں نوبالغ لڑکیوں میں جسمانی سرگرمیوں (ورزش اور کھیل کود وغیرہ) میں حصہ نہ لینے کی شرح اوسطاً 10 فیصد زیادہ تھی۔ یہ رجحان صرف چار ممالک (ٹونگا، ساموآ، افغانستان اور زیمبیا) میں نہیں دیکھا گیا۔ علاوہ ازیں، 2001 سے 2016 تک، جسمانی سرگرمیوں کے حوالے سے لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق بھی مسلسل بڑھتا گیا، جو 2016 میں 90 فیصد تک پہنچ گیا۔
اس مطالعے کے مصنفین نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوبالغ بچوں میں جسمانی سرگرمیاں بڑھانے اور عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ یہ سنگین مسئلہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ ساری دنیا کی نئی نسل کا ہے جسے آنے والے برسوں میں باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں