70

دوائیاں 400 فیصد مہنگی ہوگئیں اور اینٹی بائیوٹک خریدنا مشکل ہوگیا ہے، پشاورہائیکورٹ

ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ فلو کی سیزن میں اینٹی بائیوٹک خریدنا مشکل ہو چکا ہے، دوائیاں 300 سے 400 فیصد مہنگی ہوئی ہیں کیا حکومت کو اس کا ادراک ہے۔
جسٹس قیصر رشید اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے لیبارٹریوں میں ٹیسٹوں کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے کیس پر سماعت کی۔
ڈائریکٹر آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ لیبارٹریز میں ٹیسٹوں کی قیمتوں کے تعین کے لئے بی او جی بنا دی گئی ہے۔ جس پر جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ ایک سال میں صرف بی او جی بنائی گئی ہے، یہ صوبائی حکومت کی جانب سے انتہائی سنجیدہ معاملے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے، آپ لوگ کرتے کیا ہیں ، حکومت کے ہر ادارے کو نوٹس دیں تب آپ کام کریں گے، کیا چیئرمین میٹنگ میں صرف چائے پینے کے لئے آتے ہیں۔
جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ 100، 200 روپے میں ہونے والے ٹیسٹ ہزاروں میں ہو رہے ہیں، فلو کی سیزن میں اینٹی بائیوٹک خریدنا مشکل ہو چکا ہے، دوائیوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں، دوائیاں 300 سے 400 فیصد مہنگی ہوئی ہیں کیا حکومت کو اس کا ادراک ہے،میڈیا والے زیادہ اچھے طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں، ہمیں میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ قیمتیں زیادہ کم ہے یا زیادہ۔ میڈیا والے بہادر لوگ ہیں جو نوٹس میں لا رہے ہیں کچھ ذمہ دارایاں آپ لوگوں کی بھی بنتی ہیں۔
عدالت نے چیئرمین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو اگلی سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 19 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں