19

زرداری شہباز ملاقات؛ کس کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ ہوا

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زردار سے ملاقات کی ہے جسں میں دونوں رہنماؤں نے نیب کی کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی قائد سابق صدر آصف زرداری سے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی جس میں دونوں پارٹیوں کا حالیہ گرفتاریوں اور نیب کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں کہا گیا کہ سیاسی کارکنان کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے روکنے کے لئے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جس کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ن لیگ کے رہنماؤں نے پارلیمان میں موجود تمام ہم خیال جماعتوں کےساتھ رابطے کرنے کی بھی تجویز دی ۔ اس موقعے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سےاے پی سی کی تاریخ کا اعلان کرنےکا بھی فیصلہ کیا گیا۔
پی پی کے وفد میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پی پی پی سندھ کے صدر نثار، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا بھی شامل تھے جب کہ شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے وفد میں مریم اورنگزیب، احسن اقبال، زبیر احمد، رانا مشہود اور شاہ محمد شاہ شریک ملاقات میں شریک ہوئے۔

بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تجدید!
ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ہم سندھ میں بارش سے متاثر ہونے والے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے وفاق حکومت سندھ کی مدد کرے۔
احسن اقبال نے کراچی میں بارشوں کا 90سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے.جب اتنی غیرمعمولی بارش ہوگی تو اس سے غیر معمولی تباہ کاری ہوتی ہے.ہمارا موقف ہےکہ قدرتی آفت کی وجہ سے لوگوں کا بھاری نقصان ہوچکا ہے اس وقت بجائےبلیم گیم کے ایسا حل تجویز کریں کہ جس سے کراچی کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کا موقع ملے.
رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کو بے نظٰیر اور نواز شریف کے مابین ہونے والے معاہدے کی تجدید کرنی چاہیے۔ حکومت ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ملک میں کالا قانون نافذ کرنا چاہتی تھی۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اپوزینش کی آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ دینے کا وقت آچکا ہے، اپوزینش کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو چھیڑا گیا تو بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں