60

زیادتی کیس، کرول گاؤں کے تمام رہائیشیوں کا DNA ٹیسٹ کرانیکا فیصلہ

لاہور سیالکوٹ موٹروے گجرپورہ میں خاتون کیساتھ زیادتی واقعہ کی تحقیقات جاری ہے جب کہ گرفتارکیے گئے مشتبہ 15افراد کے ڈی این اے میچ نہیں ہو سکے۔
حکام نے ملزمان کی شناخت کیلیے کرول گھاٹی کے تمام رہائشیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانیکا فیصلہ کیا ہے۔ سیمپلنگ کیلیے کرول گاؤں فیلڈ اسپتال بنایا جائیگا،پولیس نے اطراف کے کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی۔
دریں اثنا میڈیکل رپورٹ میں خاتون سے زیادتی کی تصدیق ہوگئی،چہرے پر دو جگہ زخم کے نشان پائے گئے۔ متاثرہ خاتون کے نمونے فرانزک لیب بھجوا دیے گئے ہیں رپورٹ پانچ روزتک مل جائیگی۔
علاوہ ازیں آئی جی پنجاب انعام غنی نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایس پی یو ، پنجاب پولیس اورپٹرولنگ پولیس کے 250اہلکارتعینات کردیے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق آئی جی پنجاب انعام غنی نے ملزمان کی گرفتار کیلیے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہورشہزادہ سلطان کی سربراہی میں6رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں