129

ساہیوال میں پولیس کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق، 3 بچے زخمی

قادرآباد کے قریب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 4 افراد ہلاک اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔
ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں 2 خواتین شامل ہیں۔
سی ٹی ڈی نے چاروں جاں بحق افراد کو اغوا کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ایک آلٹو گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں افراد ہلاک ہوگئے تاہم حیران کن طور پر کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
پولیس نے کہا کہ اغوا کاروں کے قبضے سے تین بچے بازیاب کرالیے گئے جو گاڑی کی ڈگی میں موجود تھے۔ تاہم صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب لاشوں اور زخمی بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
جب بچوں کا بیان قلمبند کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ جاں بحق افراد ان کے والد، والدہ، خالہ اور ڈرائیور ہیں۔ وہ لوگ رشتے داروں سے ملنے بورے والا جارہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے نہ گاڑی روکی اور نہ تلاشی لی بلکہ سیدھی فائرنگ کردی جبکہ گاڑی سے بھی کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔ نیز ڈگی میں بچوں کے ہونے کا دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ آلٹو کی ڈگی میں اتنی گنجائش ہی نہیں۔
مقامی تھانہ یوسف والا پولیس نے ہلاک شدگان کی شناخت سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سی ٹی ڈی کی جانب سے کی گئی ہے۔ میڈیا نمائندے جب جائے وقوعہ پر پہنچے تو پولیس نے لاشیں ہٹادیں تھیں اور ثبوت بھی مٹانے کی کوشش کی۔
دوسری طرف پنجاب پولیس کے اعلی حکام نے اتنے سنگین واقعے پر خاموشی اختیار کرلی ہے اور تاحال کوئی موقف جاری نہیں کیا۔
اپنے دوسرے بیان میں سی ٹی ڈی نے اس معاملے پر اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔ پہلے ان افراد کو اغوا کار قرار دیا گیا تھا تاہم بعدازاں سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہلاک افراد دہشت گرد تھے جن کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے تھا جن کا نام ریڈ بک میں بھی شامل ہے۔ ان سے خودکش جیکٹیں اور اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ ان کے ساتھ موٹرسائیکل پر 3 افراد سوار تھے جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
علاوہ ازیں آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ساہیوال سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آر پی او ساہیوال کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی براہ راست نگرانی کریں اور رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں