266

سری لنکا حملوں کے تانے بانے بھارت میں نکلے

سری لنکا میں ہونے والی بدترین دہشت گردی کے تانے بانے پڑوسی ملک بھارت سے ملنے لگے جس کا اعتراف سری لنکا کے تفتیشی حکام نے بھی کرلیا۔
خیال رہے کہ 21 اپریل کو کولمبو میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں بم دھماکوں کے نتیجے میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس شخص نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی اس کا نام زہران ہاشم ہے اور وہ نیشنل توحید جماعت کا رہنما ہے۔
ایک اعلیٰ فوجی حکام نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ زاہران ہاشم نے بڑا عرصہ جنوبی بھارت میں گزارا ہے۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ داعش کی جانب سے حملہ آوروں کی جو تصاویر جاری کی گئیں تھیں ان میں ممکنہ طور پر زہران ہاشم بھی موجود ہے۔
سری لنکن تفتیش کاروں نے بتایا کہ ‘ان تصاویر میں ایک خاتون سمیت 9 دہشتگردوں کی شناخت کی گئی ہے، ہمیں شبہ ہے کہ دہشتگرد نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں جنہیں بھارتی ریاست تامل ناڈو میں تربیت دی جاتی ہے۔’ادھر بھارتی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ زہران ہاشم کے 100 سے زائد پیروکار کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ سری لنکن حکام نے 9 حملہ آوروں کے نام تو نہیں بتائے لیکن یہ ضرور بتایا ہے کہ ہوٹل شنگریلا میں حملہ کرنے والا دہشت گرد ممکنہ طور پر زہران ہاشم ہی تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہاشم سری لنکا کے مشرقی صوبے میں ایک مذہبی گروہ کے سربراہی کرتا تھا، جبکہ مقامی مسلمان بھی اس کی ان سرگرمیوں سے خوش نہیں تھے۔
ایک مسلمان رہنما نے بھارتی اخبار کو بتایا کہ زہران ہاشم 2 برس قبل یہ علاقہ چھوڑ گیا تھا۔
ایک روز قبل سری لنکا کے وزیراعظم متھری پالا سری سینا نے دہشت گردی سے نمٹنے اور اسے شکست دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت خانہ جنگی کے ادوار کی تحقیقات کی وجہ سے ملک میں سیکیورٹی ادارے کمزور ہوئے جن کی وجہ سے دہشت گرد اتنے بڑے حملے کرنے کے قابل بنے۔
مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ ملکی اداروں کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کی شیئرنگ میں فقدان نے بڑا نقصان پہنچایا جبکہ نائب وزیردفاع اور انسپکٹر جنرل پولیس اس کے ذمہ دار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں