277

سیلفی اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا استعمال انسان کو خود پسند بنارہا ہے، تحقیق

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بے تحاشا تصاویر پوسٹ کرنا اور ان میں سیلفیاں شامل کرنا خود پرستی اور نرگسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے افراد تیزی سے ایک نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہوسکتے ہیں جس میں وہ خود کو اہم ترین سمجھتے ہیں۔
برطانیہ میں سوانسی یونیورسٹی اور اٹلی کی میلان یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر 74 افراد کو شامل تحقیق کیا جس میں 18 سے 34 سال کے افراد شامل تھے اور چار ماہ تک ان کا مطالعہ کیا گیا۔ یہ افراد فیس بک، ٹویٹر، انسٹا گرام اور اسنیپ چیٹ کا استعمال کررہے تھے۔
اب ان میں سے جن افراد نے سوشل میڈیا کا بے دھڑک استعمال کیا اور تصاویر زیادہ پوسٹیں کیں ان میں خود پرستی اور نرگسیت کے رجحانات میں 25 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ واضح رہے کہ نرگسیت ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان خود کو اہم سمجھتا ہے اس میں خودنمائی کے رجحان اور عہدے کے لالچ میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی عادت ہوجاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا مثلاً ٹویٹر پر تحریر اور دیگر لنکس پوسٹ کرنے والے افراد میں نرگسیت نہیں دیکھی گئی تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے نرگسیت دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اور وہ دن میں کم سے کم تین گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں تاہم بعض نے کہا کہ وہ اپنی ملازمت سے ہٹ کر روزانہ آٹھ گھنٹے تک سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
مطالعے کے اختتام پر سوان سی یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات پروفیسر فِل ریڈ کہتے ہیں کہ جو اپنی یا دوسروں کی تصاویر والی پوسٹ زیادہ شیئر کرتے ہیں ان میں نرگسیت اور خودپرستی کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں