50

سی سی پی او لاہور کا پولیس میں کورٹ مارشل متعارف کرانے کا فیصلہ

سربراہ لاہور پولیس محمد عمر شیخ نے آرمڈ فورسز کی طرز پر پولیس میں بھی کورٹ مارشل متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی سی پی او لاہور نے پولیس میں کورٹ مارشل کےلئے آئی جی پنجاب سے درخواست کردی۔ عمر شیخ نے آئی جی پنجاب کو خط لکھتے ہوئے کہا کہ آرمڈ فورسز میں کورٹ مارشل کی طرز پر پولیس میں بھی سزا جزا کا نظام متعارف کروایا جائے، پولیس میں بہترین ڈسپلن اور موثر سروس ڈلیوری کیلئے سخت سے سخت قوانین بنانا ہونگے۔
عمر شیخ نے کہا کہ پچھلے پانچوں سال کے ریکارڈ کے مطابق 25 سے 30 فیصد سے زائد نفری کو سزائیں دی گئیں، لیکن سزاؤں کے باوجود جوڈیشری، میڈیا، این جی اوز اور عوام الناس پولیس کے رویوں کی شکایات کرتے دکھائی دیتے ہیں، موجودہ قوانین کے تحت سزائیں دینے سے کوئی بہتری نہیں آرہی۔
سی سی پی او لاہور نے خط میں کہا کہ پولیس کورٹ مارشل متعارف کروانے کا مقصد یہ ہے کہ غفلت و کوتاہی پر کوئی اہلکار و افسر دوبارہ نوکری پر بحال نہ ہو سکے، موجودہ قوانین کے تحت سخت سے سخت سزاؤں کے باوجود اہلکار و افسر محکمے کا حصہ ہیں، پولیس میں نوکری سے نکالے جانے پر اہلکار دوبارہ سول کورٹس، سروس ٹربیونل و دیگر طریقوں سے واپس آجاتے ہیں۔
سی سی پی او لاہور کا موقف تھا کہ انصاف کی فراہمی اور سسٹم میں شفافیت کےلئے موجودہ قوانین میں کورٹ مارشل طرز کی ترامیم وقت کی اہم ضرورت ہے، پولیس کورٹ مارشل کو جلد از جلد نافذالعمل کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں