136

سی پیک پاکستان کے ساتھ مغربی چین کی ترقی میں بھی مدد دے گا، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ نہ صرف پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں مدد دے گا بلکہ اس سے مغربی چین میں مدد ملے گی۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے موقع پر رہنماؤں کے گول میز مذاکرے کے پہلے دور سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ باہمی روابط کو فروغ دے کر معاشی ترقی کے نئے ذرائع دریافت کیے جا سکتے ہیں۔
چین کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید دنیا میں چین نے پائیدار معاشی شرح نمو، معاشرے کی فلاح و بہبود اور اربوں لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کی عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اس کی قیادت کی فہم و فراست اور چینی عوام کی محنت کا نتیجہ ہے۔
اور اب چین کے صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ (بی آر آئی) پروگرام کا تصور پیش کیا ہے جو تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، عوامی رابطوں کے فروغ، مختلف معیشتوں کو ضم کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے ویژن پر مشتمل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین کا بنیادی شراکت دار ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے، سی پیک میں سڑک، ریل، توانائی اور دیگر شعبوں کے منصوبے بھی شامل ہیں جن کا مقصد مسائل پر قابو پانا اور ترقی کے اہداف کا حصول ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہم سی پیک کے تحت بڑی شاہراہیں تعمیر کررنے کے ساتھ ریلوے کے وسائل کو جدید خطوط پر استوار کرنے، نئے پاور پلانٹس کی تنصیب، گوادر میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ بندرگاہ کی تعمیر اور مخصوص اقتصادی زونز بھی قائم کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف ایک منصوبہ ہی نہیں بلکہ اس سے ہمارے معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ گوادر کی بندرگاہ کو چین کے علاقے ژنگ جیانگ کے ساتھ ملانے سے چین کو اپنی درآمدات کے لئے مغربی چین کے سمندروں کے مقابلے میں ایک مختصر ترین بحری راستہ دستیاب ہوگا جس سے چینی کمپنیوں کے اخراجات میں کمی آئے گی اور مغربی چین کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ باہمی روابط میں مزید اضافہ اور بی آر آئی کے فوائد سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کرنے کے لیے ہم مستقبل میں مزید شعبوں پر توجہ دیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس سے ڈیجیٹل روابط اور معلومات کے بہتر تبادلے سے کاروباری مواقع میں اضافہ ہوگا اور قیمتوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، اس کے علاوہ کارکنوں اور مہارتوں کی منتقلی سے اخراجات کو کم کیاجاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی رابطوں کا فروغ سیاحت کے شعبے کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا جس سے روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرنے اور چھوٹے کاروبار کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں