143

شاہی قلعہ کے خفیہ تہہ خانوں کی تلاش کا منصوبہ

لاہور کے تاریخی شاہی قلعہ کے مختلف حصوں کی کھدائی اور تہہ خانوں کی تلاش کا کام آئندہ سال شروع ہونے کا امکان ہے، پنجاب حکومت کی طرف سے منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے فندذ جاری ہونے کے بعد رواں برس کی آخری سہ ماہی میں تہہ خانون کی کھدائی اور بحالی کے حوالے سے پیپر ورک پرکام شروع ہوجائے گا۔
والڈسٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر کنزرویشن نجم الثاقب نے ایکسپریس کوبتایا کہ شاہی قلعہ کے مختلف حصوں کی بحالی اور سیاحوں کی دلچسپی پیدا کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے تاہم شاہی قلعہ میں کئی ایسے تہہ خانے،سرنگیں اورمقامات ایسے ہیں جن کو آج تک تلاش نہیں کیاجاسکاہے، گزرے چندبرسوں کے دوران کالے برج اورشیش محل کے نیچے،اسی طرح شاہی باورچی خانے کے حصے میں کچھ تہہ خانے برآمد ہوئے ہیں۔ کالے برج کے نیچے چار منزلوں تک کا سراغ لگایا جاچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ والڈ سٹی اتھارٹی نے 1ارب 45 کروڑ روپے لاگت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ جس کے تحت جہانگیر کی خواب گاہ اور شیش محل کے نیچے تہہ خانوں اورخفیہ مقامات کو تلاش کیا جائے گا۔جن میں ممکنہ طورپر ایسے عقوبت خانے بھی شامل ہوں گے جہاں حکمران خطرناک قیدیوں اوراپنے دشمنوں کو قید کرتے تھے۔
نجم الثاقب کہتے ہیں دیوان عام اور پرانے اکبری گیٹ کو بھی اصل شکل میں بحال کیا جائے گا، قلعہ میں ایک میوزیم اور ترجمان سینٹر بھی قائم کیا جائے گا، والڈ سٹی اتھارٹی نے منصوبے کا پی سی ون تیار کرکے منظوری کے لئے پنجاب حکومت کو بھجوا دیا ہے۔توقع ہے کہ پی سی ون کی منظوری کے بعد رواں سال اکتوبر میں فنڈز ریلیز ہوجائیں گے اور ہم پیپر ورک شروع کردیں گے لیکن بحالی کا کام آئندہ برس ہی شروع ہوسکے گا۔
نجم الثاقب نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کوڑے اورملبے کے ڈھیروں کی کھدائی کے نیچے سے شاہی حمام برآمد ہوئے تھے، اس کے بعد ہم نے ناصرف اس کے اطراف میں کھدائی کا عمل جاری رکھا بلکہ ان دریافت ہونیوالے حمام کی درست تاریخی حیثیت جاننے کے لئے ملکی اورغیرملکی ماہرین بھی بلائے گئے تھے۔ یہاں کھدائی کے دوران آپس میں جڑے ہوئی کئی راہداریاں اورراستے ملے ہیں جن کے بارے گمان ہے کہ شاہی خاندان کے لوگ یہاں سے گزرتے ہوں گے۔ اسی طرح مٹی کے برتنوں کی باقیات ملی ہیں جن پرتحقیقات کی جارہی ہیں کہ ان برتنوں کا استعمال کس دورمیں ہوتا تھا۔
شاہی قلعہ 1100 فٹ طویل جبکہ 1115 فٹ وسیع ہے۔ روایت کے مطابق لاہور کے قلعہ اور شہر کی تعمیر راجہ رام چندر کے بیٹے لوہ سے منسوب کی جاتی ہے جس کا زمانہ200 سے 80 قبل از مسیح کے درمیان بیان کیا جاتا ہے۔ محکمہ آثارقدیمہ پنجاب کے سابق ڈائریکٹرافضل خان نے بتایا کہ 1959 میں قلعہ کے دیوان عام کے سامنے بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کرکھدائی کی گئی تھی اس دوران ہمیں 13 مختلف ادوارکے نشانات ملے تھے۔ مطلب یہ کہ یہاں 13 مختلف ادوارمیں تعمیرات ہوئیں۔ یہ قلعہ چونکہ ایک ٹیلہ پربنایا گیا تھا۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ پہلی آثارمٹی میں دفن ہوتے گئے اوران پرنئی تعمیرات ہوتی رہیں، آج بھی قلعہ کے کسی بھی حصے میں کھدائی کرلی جائے توچندفٹ نیچے سے کوئی نہ کوئی آثاربرآمدہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی واضع کیا کہ شاہی قلعہ میں سے آج تک کوئی خفیہ سرنگیں سامنے نہیں آئی ہیں، دیواروں کے ساتھ زیرزمین کمرے اورراہداریاں تھیں جوقلعہ کے مختلف حصو ں میں بنی عمارتوں کو آپس میں ملاتی تھیں۔ ان راہداریوں اورزیرزمین عمارتوں کے جوآثاربرآمدہوئے ان کے بارے میں لوگوں نے مشہورکردیا کہ یہاں خفیہ سرنگیں تھیں جو قلعہ سے باہر نکلتی تھیں، کچھ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہاں سے سرنگیں دہلی تک جاتی تھیں تاہم یہ سب افسانے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں