126

شاہی قلعے کی سرنگیں اورتہہ خانے برسوں بعد بھی عوام کی آنکھوں سے اوجھل

شاہی قلعہ میں خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں کا ایک جال بچھا ہے اور ان کے بارے کئی افسانوی قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں لیکن یہ پوشیدہ آثار برسوں بعد بھی عام انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں، لاہور والڈ سٹی اتھارٹی نے ایسی ہی دو سرنگیں اور بارود خانہ تلاش کیا ہے جس کی بحالی کا کام جاری ہے۔
لاہور کا تاریخی شاہی قلعہ اپنے دامن میں کئی خفیہ آثار چھپائے ہوئے ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آرہے ہیں، لاہور والڈسٹی اتھارٹی نے حال ہی میں یہاں خفیہ سرنگوں کا ایک سلسلہ دریافت کیا ہے، سرنگوں کا یہ سلسلہ شاہی قلعہ کے اندر تک ہی محدود ہیں، ان خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں سے منسوب قصے کہانیوں کی حقیقت جاننے کے لئے یہاں آنے والے سیاح بیتاب ہیں۔
مقامی یونیورسٹی کی ایک طالبہ ماہم نے کہا کہ انہیں جب سے ان سرنگوں اور تہہ خانوں سے معلوم ہوا ہے وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہیں کہ یہ سرنگیں کتنی طویل تھیں اور کہاں جاتی تھیں ، ایک دوسری طالبہ خدیجہ نے بتایا کہ وہ لاہور کی رہائشی ہیں اورانہوں نے ان سرنگوں بارے سن رکھا ہے کہ یہاں سے کئی سرنگیں شالامار باغ اوردلی تک جاتی تھیں ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک سرنگ قلعہ سے مقبرہ جہانگیر تک جاتی تھی ، مغل شہزادے اور شہزادیاں ان سرنگوں کو آمدورفت کے لئے استعمال کرتے تھے۔
تاہم ماہرآثار قدیمہ راشد مخدوم کہتے ہیں کہ یہ سب قصے کہانیاں ہیں، انہوں نے بتایا کہ لاہورکا یہ شاہی قلعہ اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ آج تک اس کا بہت کم حصہ عوام کے لئے کھولا جاسکا ہے، قلعہ کا بڑاحصہ اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی پوشیدہ ہے، انہیں ابھی تک کسی ایسی سرنگ کے آثارنہیں ملے جو قلعہ سے باہر کسی دوسرے علاقے میں جاتی تھی اب تک جو سرنگیں دریافت ہوئی ہیں وہ سب قلعہ کے اندر ہی ختم ہوجاتی ہیں ، انہوں نے تہہ خانوں کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے جس دورمیں یہ قلعہ تعمیرہوا اس وقت یہ تہہ خانے نہ ہوں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں تبدیلیاں آتی رہیں ، سکھ اور برطانوی دور میں یہاں کافی تبدیلیاں کی گئیں جس کی وجہ سے کچھ حصے سطح زمین سے بلند ہوگئے اور یہ کمرے زمین دوز ہوتے گئے۔
خفیہ سرنگوں کے علاوہ یہاں کھدائی کے دوران برطانوی دورکا بارود خانہ بھی سامنے آیا تھا ، یہاں لکھی تحریرکے مطابق یہ حصہ 1857 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے بارود خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اب لاہور والڈ سٹی اتھارٹی اس حصے کی بحالی میں مصروف ہے تاکہ اسے سیاحوں کے لئے کھولا جاسکے، ماہرین کے مطابق وہ ان خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں کے جال کوتلاش کرنا چاہتی ہے اور یہ کھوج لگائی جارہی ہے کہ انہیں کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، کئی برسوں کی کھوج اور کھدائی سے بہت کم سرنگیں اور تہہ خانے دریافت ہوسکے اور ان تک رسائی ممکن ہوسکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں