397

شب ِقدر: رحمت خداوندی کا سرچشمہ

شب ِقدر: رحمت خداوندی کا سرچشمہ
آغا سیّد حامِدعلی شاہ مُوسوی
اﷲ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے بے پناہ نعمات سے نوازا۔ جہاں اسے آسائشیں عطا کیں وہاں اسے دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات قرآن کی صورت میں عطا فرما دیا۔ کلام الہی ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ یہ رات طلوع فجر تک سلامتی سے لبریز ہے۔ لیلۃ القدر کو ہزار مہینے سے افضل قرار دیا گیا اور اس کی عبادت ہزار مہینے کی عبادت سے افضل، اس کا صدقہ ہزار مہینے کے صدقات سے افضل، اس کا روزہ ہزار مہینوں کے روزوں سے افضل، اس کی نیکی ہزار مہینے کی نیکیوں سے افضل ہے۔

ایک روایت ہے کہ پیغمبر اکرم ؐنے اپنے اصحابؓ کے درمیان بنی اسرائیل کے چار پیغمبروں (ایوبؑ، ذکریاؑ، حزقیل ؑ اور یوشعؑ) کا ذکر کیا کہ وہ 80 سال دن رات خدا کی عبادت کرتے رہے تو صحابہؓ نے آرزو کی اے کاش! ہمیں بھی توفیق ملتی اور اﷲ ہمیں لمبی عمر عطا کرتا تو ان عابدوں کی طرح عبادت کرتے۔ اس آرزو کے بعد یہ سورہ نازل ہوا، جس کا مفہوم ہے : ’’تمہار ی اور تمہاری ذریّت اور تمہاری امت کی ایک رات کی عبادت ان کی ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔‘‘ (درالمنثور، مخزن العرفان)

حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں میں نے پیغمبرؐ سے عرض کیا: اے رسول خدا ﷺ کیا شب قدر صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے، کیوں کہ امر ان پر نازل ہوتا ہے، جب انبیائؑ دنیا سے گزر جائیں تو کیا شب قدر اٹھالی جائے گی ؟‘‘ تو آنحضور ؐ نے فرمایا: شب قدر روز قیامت تک باقی ہے۔ (تفسیر نورالثقلین، تفسیر مجمع البیان )
بعض مفسرین نے شب قدر میں سلام کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس رات فرشتے مسلسل ایک دوسرے پر، پیغمبر اکرم ﷺ کے حضور، اﷲ کی برگزیدہ ہستیوں اور مومنین پر سلام بھیجتے ہیں۔ شب قدر کتنی پُرکیف اور بابرکت رات ہے جب فرشتے قطار اندر قطار اتر کر مومنین کو سلام کررہے ہوں۔ گویا کائنات میں ہر سُو سلامتی اور برکات کی برسات ہورہی ہوتی ہے۔ فرشتوں کا سلام ابراہیمؑ کے لیے بھڑکائی گئی نمرود کی آگ کو گل زار بنا سکتا ہے تو مومنین و مسلمین کے لیے آتش جہنم کو سرد کیوں نہیں کرسکتی۔ امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہی عظمت ہے امت محمدیؐ کی کہ وہاں فرشتے خلیل خدا پر نازل ہوتے تھے اور یہاں نبی کریم ؐ کی امت پر۔ شب قدر ہی نہیں اس کے ذکر سے بھرپور سورۃ القدر کے بھی بے انتہا فضائل ہیں۔

شب قدر میں سال بھر کے امور کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یعنی اموات، زندگی، رزق، بیماری تنگ دستی، وسعت اور کشادگی تمام امور طے کیے جاتے ہیں۔ سورۃ القدر پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ انسان اپنا مقدر بنا سکتا ہے، اپنی تقدیر بدل سکتا ہے لیکن سب اس کی نیّت پر موقوف ہے، سب اس کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اگر وہ نیکیوں اور سعادتوں کی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو شب قدر کو وسیلہ بناتے ہوئے اﷲ کی بارگاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور بُرے اعمال سے برأت کرے۔ لیکن جو غفلت میں پڑا رہے، جسے نیکی کی جستجو ہی نہ ہو، جو اﷲ کی جانب متوجہ ہی نہ ہو، جسے اﷲ کی رحمتوں کے بحر بے کراں کا احساس ہی نہ ہو، اس نے اﷲ کی عطا کردہ اس عظیم نعمت کو ضایع کردیا۔

شب قدر کے بارے میں یہ تو اشارہ ملتا ہے کہ یہ رات رمضان المبارک میں ہے لیکن اس کا تعین مخفی رکھا گیا تاکہ لوگ عبادت میں دل چسپی برقرار رکھیں۔ اسی طرح اسم اعظم کو مخفی رکھا گیا تاکہ انسان اﷲ کے تمام ناموں کو ورد زباں بنائے رکھیں، اور ان کے فیوض سے مستفید ہوتے رہیں۔ اسی طرح ساعات جمعہ میں سے بھی ایک ساعت کو قبولیت دعا و استجابت کا وقت قرار دیا گیا اور اس کو مخفی رکھا تاکہ جمعہ کی شب و روز میں کسی بھی وقت دعا و مناجات سے غفلت نہ برتی جائے۔ شب قدر کو اﷲ نے مخفی رکھنے کا مقصد واضح ہے کہ اہل ایمان اس شب کو تلاش کریں اور اس جستجو میں مصروف رہ کر زیادہ سے نیکیاں حاصل کرے، زیادہ گڑگڑائیں زیادہ دعا و مناجات کریں، اﷲ کی جانب زیادہ رجو ع کریں۔

اﷲ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اگر اس شب کو پالیں تو خدا سے کیا مانگیں؟ نبی کریمؐ نے فرمایا: عافیت۔ علامہ مجلسیؒ فرماتے ہیں کہ شبِ قدر میں بہترین عمل طلب مغفرت اور اپنے دنیا و آخرت کے مطالب کے لیے دعا کرنا ہے۔ اپنے والدین عزیزوں اور ایمانی بھائیوں کے لیے دعا کرنا ہے اور محمدؐ و آل محمدؐ پر درود بھیجنا ہے۔ روایت ہے کہ جو اس شب میں بیدار رہے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے چاہے وہ آسمان کے ستاروں اور پہاڑوں و دریاؤں کے عدد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

آج امت مسلمہ پر عجب کڑا وقت آن پڑا ہے، اجتماعی طور پر بھی مسلمان استعماری قوتوں کا نشانہ ہیں، دہشت گردی اور افتراق کے فتنوں تلے کچلے جارہے ہیں تو شیطانی قوتوں کی ثقافتی یلغار کا بھی انہیں سامنا ہے، بے راہ روی اور مغربیت در و دیوار پھلانگ کر گھروں میں داخل ہو چکی ہے۔ لہذا شب قدر کی قبولیت دعا کی ساعتوں میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خدا سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے، دین اسلام پر کاربند رہنے کی توفیق مانگے۔ ہر مسلمان اپنا دامن منعم حقیقی کے سامنے پھیلائے تو عالم اسلام کی کشتی گرداب سے نکل کر پھر سوئے حرم گام زن ہو سکتی ہے۔ خداوند عالم ہر کلمہ گو مسلمان کو اس شب کو پالینے اور اس فیوض برکات اور ثمرات سے بہرہ مند ہونے کی توفیق مراحمت فرمائے۔ آمین بہ حق طہٰ و یٰس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں