176

شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات بیرسٹر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی 6 ہفتوں کے لئے ضمانت منظور ہوئی ہے، تاہم سپریم کورٹ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی ہے جو خوش آئند ہے، کیوں کہ وہ اگر بیرون ملک چلے جاتے تو واپس ہی نہیں آتے، ان کے دیگر اہل خانہ بھی واپس نہیں آئے۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتے ہیں کہ عدالتوں کے فیصلوں کو من و عن قبول کریں گے تاہم شہباز شریف کے ای سی ایل سے نام نکالنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو پہلے ہی کہا تھا کہ وہ اپنا علاج پاکستان میں ہی کروا لیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی اور اب سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ وہ ملک میں ہی علاج کروائیں۔ عجیب بات ہے کہ نوازشریف کو ان کے والد میاں شریف کے بنائے ہوئےاتفاق اسپتال پر اعتبار نہیں ہے، لیکن ان کے پاس وسائل موجود ہیں وہ بیرون ملک سے ڈاکٹر بلا لیں، اگر نوازشریف ہماری بات مان لیتے تو انہیں اپنے وکیل خواجہ حارث کو فیس نہ دینی پڑتی۔
وزیراطلاعات نے کہا کہ نوازشریف نے آج عدالت میں بتایا کہ مجھے کوئی بیماری نہیں صرف ٹینشن ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جو ٹینشن نوازشریف کو ہے وہ تو ہر قیدی کو ہی ہوتی ہے، اگر نوازشریف سمجھتے ہیں کہ انہیں ملک سے مستقل جانا ہے تو صرف ایک شرط ہے کہ وہ عوام کے چوری کئے ہوئے پیسے واپس کردیں، اور اگر وہ یہ سمجھے ہیں کہ پیسے بھی نہ دیں اور بیرون ملک بھی چلے جائیں تو یہ نہیں ہوسکتا، پلی بارگین کا قانون موجود ہے، خواجہ حارث ان کی قانونی رہنمائی کریں اور انہیں اچھے مشورے دیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ میں بھی مارچ جاری ہے، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو پہلی بار ٹرین کا ٹکٹ لینا پڑا، اور وہ ہر اسٹیشن پر بتاتے ہیں کہ ان کے والد پر 5 ہزار کروڑ روپے کا معصوم سا الزام ہے، اور انہیں تحقیقات کےلئے راولپنڈی میں بلایا جاتا ہے جو زیادتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ آغا سراج اسپیکر سندھ اسمبلی ہیں انہیں نہ پوچھا جائے، ہم کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں سے تحقیقات کیوں نہ کی جائیں، اسپیکر ہے یا وزیراعلیٰ کو کیوں نہ پوچھیں، اب آپ کی کابینہ میں سارے ہی کرپٹ ہیں تو ہم کیا کریں۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ کے لوگوں کے حقوق پر غاصب ٹولہ بیٹھا ہے، نیب کے مرکزی ملزمان کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹٰ میں ڈال دیا گیا، فریال تالپور اور شرجیل میمن کرپشن کے مرکزی ملزمان ہیں، سندھ حکومت کا مطالبہ ہے کہ سندھ کا حصہ مزید بڑھایا جائے، پہلے یہ بتایا جائے کہ ماضی میں عوام کے حقوق کے لئے کیا کیا؟ جو اب مزید پیسے بڑھائے جائیں، پہلے بھی عوام کے پیسوں سے لندن اور دبئی میں جائیدادیں خریدی گئیں، اب سندھ کے عوام فیصلہ کریں کہ ان کے نام پر لوٹے گئے پیسے بڑھائے جائیں یا کرپٹ لوگوں کو جیلوں میں بھیجا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں