65

شہباز شریف بیٹی کیساتھ احتساب عدالت پیش

شہباز شریف اور انکی بیٹی جویریہ منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے ، بیٹی رابعہ عمران اور اہلیہ نصرت شہباز کونوٹس موصول نہ کرانے پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور دونوں کو دوبارہ طلبی کے نوٹس جاری کردئیے ۔ دوران سماعت شہباز شریف نے عدالت میں کہا میرے فیصلوں سے خاندان کو اربوں کا نقصان ہوا ۔ احتساب عدالت کے جج جوادالحسن نے کیس کی سماعت کی ، نیب پراسیکیوٹر نے سلمان شہباز کے وارنٹ سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ بیرون ملک ہونے کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ، جس پر عدالت نے سلمان شہباز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے اور نیب کو ہدایت کی کہ اندرون اور بیرون ملک تمام اتھارٹیز سے ہدایات لیکر رپورٹ جمع کرائیں ۔اسی طرح حمزہ شہباز کو جیل سے لا کر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اس کے بجائے جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے حمزہ شہباز کی میڈیکل رپورٹ عدالت پیش کی جس میں کہا گیا کہ ان کی طبیعت ناساز ہے ۔ جس پر نیب کے وکیل نے کہا حمزہ شہباز نے ایک پیناڈول کھائی اور بیڈریسٹ پر لیٹ گئے تاہم عدالت نے آئندہ سماعت پر حمزہ شہباز کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ سماعت کے دوران شہباز شریف نے جج جواد الحسن سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں جس پر جج جوادالحسن نے کہا مجھے اندازہ تھا کہ آپ کچھ کہیں گے ،آپ کو اجازت ہے ۔ شہباز شریف نے کہا ، کہاجاتا ہے میں نے آمدن سے زائد اثاثے بنائے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرے فیصلوں سے نواز شریف اور میرے بیٹوں کے بزنس کو اربوں کا نقصان ہوا۔ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب میں 10 برسوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے ، میں نے اپنے فرض سے بڑھ کر پنجاب کے عوام کا پیسہ بچایا، مجھ پر میرے خاندان کا بھی دباؤ تھا کہ گنے کا ریٹ کم کیا جائے اور سبسڈی دی جائے لیکن میں نے گنے کی قیمت کم کی نہ ہی سبسڈی دی۔ اس فیصلے سے میرے خاندان کی ملز کو ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا ، مجھ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ میری بے نامی جائیدادیں ہیں اگر یہ میری بے نامی جائیدادیں ہوتیں تو کیا میں ان کو نقصان پہنچاتا۔ حکومت مجھے اور میرے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ، مجھے اللہ پر بھروسہ ہے ہمیں انصاف ملے گا۔دس سال خدمت کی اسکا یہ صلہ دیا جارہا ہے ۔ جج جواد الحسن نے ریمارکس دئیے کہ خدمت کا صلہ اللہ سے مانگیں، آپکا مکمل بیان ریکارڈ کیا جائے گا کچھ نہ ہوا تو آپ بری ہو جائیں گے ۔بعد ازاں عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کر دی ۔ قبل ازیں شہباز شریف اپنی صاحبزادی جویریہ کے ہمراہ جب احتساب عدالت میں پیش ہونے کیلئے پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے پارٹی قائدین کے ہمراہ شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا۔ علاوہ ازیں جج امجد نذیر چودھری کی احتساب عدالت میں رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں یکم اکتوبر تک توسیع کرتے ہوئے گواہوں کو شہادت کے لیے طلب کرلیا ۔ جیل حکام نے حمزہ شہباز کو طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں