331

علامہ اقبالؒ کی بہو عمران خان کی کس حرکت پر آبدیدہ ہو گئیں

گزشتہ دنوں ایوانِ کارکنان تحریک پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر جاوید اقبال کی برسی پر چائے کی میز پر محترمہ ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ سے یہ بات چھڑی تو ان کے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا ممکن نہ رہا۔ اپنے جیون ساتھی کی موت کا صدمہ بڑے حوصلے کے ساتھ برداشت کرجانے والی خاتون کے لیے اپنے صاحبزادے کے ساتھ یہ ناانصافی ناقابل برداشت تھی۔انہیں دکھ تھا کہ ”بے قدرے لوگوں“ نے ولید کی قدر کی‘ نہ اس کی صلاحیتوں اور پارٹی سے اس کی طویل وابستگی اور اس کی شبانہ روز محنت کا خیال کیا۔ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ان کا کہنا تھا‘ ولید علامہ کے پوتے اور جاوید اقبال کے صاحبزادے کے طور پر ٹکٹ کا امید وار نہ تھا‘ وہ تو اپنے میرٹ پر اس کا خواہش مند تھا۔ انصاف کے دعویداروں کی طرف سے ولید کے ساتھ ناانصافی بیگم صاحبہ کے لیے گہرے صدمے کا باعث تھی‘انہیں یاد تھا کہ نون لیگ نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو سینیٹر بنوایا تھا اور دوسری بار خود ڈاکٹر صاحب نے اپنی عمراور صحت کے مسائل کے باعث معذرت کرلی تھی۔
خان صاحب یہی وعدہ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کے صاحبزادے ولید اقبال سے بھی کرچکے تھے۔ بیگم ناصرہ جاوید اقبال نے ولید اقبال کے سیاسی کیریئر کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ 2018ءکے قومی انتخابات میں حلقہ این اے 131 میں عمران خان کی انتخابی مہم بھی ولید اقبا ل نے ہی چلائی اور اس کے لیے شب وروز ایک کردیئے‘ لیکن ضمنی الیکشن کے لیے ٹکٹ ہمایوں اختر لے اڑے۔ اس کی تلافی ولید کو گورنر چودھری محمد سرور کی خالی کردہ سینیٹ کی نشست پر ٹکٹ دے کر لی جاسکتی تھی۔ولید اس سے بھی محروم رہے۔ ولید کی پی ٹی آئی سے وابستگی برسوں پر محیط ہے۔ وہ 2013ءکے الیکشن میں حلقہ 124میں شیخ روحیل اصغر کے مقابلے میں قربانی کا بکرا بنے تھے۔ (ایک ایسی سیٹ جس پر ولید اقبال کے جیتنے کا کوئی امکان ہی نہ تھا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں