34

علی ظفر کی درخواست پرمیشاشفیع سمیت 9 افراد کےخلاف مقدمہ درج

فیڈرل ایویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر ان کے خلاف چلائی جانے والی نفرت انگیز مہم اور ان کی کردار کشی کرنے پر میشا شفیع اور عفت عمر سمیت 9 افراد پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایف آئی اے کی خصوصی عدالت کے حکم پر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع، ماڈل و میزبان عفت عمر، لینا غنی، فریحہ ایوب، ماہم جاوید، علی گل پیر، حسیم زمان خان، حمنہ رضا اور سید فیضان رضا کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اےکے سائبر کرائم ونگ نے 2سالہ تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، ایف آئی اے کی جانب سے ان ملزمان کو دفاع کے3 سے زائد مواقع فراہم کئے گئے تاہم ملزمان اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ایف آئی آر کے مطابق 19اپریل 2018 کو گلوکارہ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا اور گلوکار علی ظفر نے نومبر 2018 میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں ان کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔
علی ظفر کا ایف آئی آے کو درخواست میں کہنا تھا کہ ان کے خلاف یہ الزام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لگائے گئے ہیں، اس سازش میں میشا شفیع اور ان کی دوست اور وکیل شامل ہیں، جبکہ ہراسانی کے الزمات اوران کے خلاف ’’می ٹو‘‘ مہم چلانے کیلئے بے شمار جعلی اکاوئنٹس بھی بنائے گئے۔ علی ظفر نے اپنے دعوے کی حمایت میں کچھ ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی ایف آئی اے کو فراہم کی تھیں۔
علی ظفر نے ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ ان جعلی اکاوئنٹس میں سب سے نمایاں اکاؤنٹ NEHASAGOL1ٰہے، یہ جعلی اکاوئنٹ میشا شفیع کے لگائے گئے الزام سے قریبا 50دن پہلے ہی بنایا گیا تھا۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے علی ظفر اور ان کی فیملی کے خلاف نازیبا الفاظ اور تصاویر شائع کی گئیں اور اس اکاؤنٹ سے علی ظفر کے خلاف ایک سال میں 3000 سے زائد ٹویٹس کی گئیں۔ حیران کن طور پر اس اکاؤنٹ کے پہلے 6 فالوورز میں میشا شفیع کی وکیل نگہت داد، والدہ صبا حمید،خالہ بشرا حمید، دوست لینا غنی اور ملزم حسیم زمان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ متعدد جعلی اکاؤنٹس دیگر سوشل میڈیا ویب سائیٹس ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر علی ظفر کے خلاف نازیبا الفاظ کے ذریعے کئی عرصے تک مہم چلاتے رہے، ان میں کئی اکاؤنٹس اچانک اس وقت ختم کر دیے گئے جب علی ظفر نے ایف آئی اے میں شکایت کے بارے میں ٹویٹ کی۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے 2سالہ تحقیقات کے بعد 9 ملزمان پر ایف آئی آر درج کی ہے۔
ایف آئی کے مطابق میشا شفیع 3 دسمبر کو ایف آئی اے میں پیش ہوئیں، تاہم وہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی گواہ یا ثبوت پیش نہ کر سکیں۔ اس کے علاوہ لینا غنی کو بھی طلب کیا گیا تھا لیکن انہوں نے رجوع نہیں اور اپنا تحریری بیان بھیجا جو اطمینان بخش نہیں تھا۔ لینا غنی 19 اپریل 2018 کو شکایت کنندہ کے خلاف ٹوئٹر پر عوامی طور پر بدنامی آمیز مواد شائع کرنے میں ملوث پائی گئی تھیں۔
فریحہ ایوب اور ماہم جاوید کو بھی چار بار طلب کیا گیا تھا لیکن وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوئیں۔ عفت عمر ایف آئی اے میں حاضر ہوئیں لیکن انہوں نے ایف آئی اے کو انہیں مزید وقت دینے کی درخواست کے باوجود اپنا بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔
ایف آئی آر کے مطابق علی گل پیر نے اپنی ٹوئٹر آئی ڈی کو استعمال کرتے ہوئے علی ظفر کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پوسٹ کیے انہیں تین بار طلب کیا گیا لیکن انہوں نے رجوع نہیں کیا اور ایف آئی اے کراچی کو اپنا بیان پیش کیا لیکن ان کا بیان غیر اطمینان بخش پایاگیا۔
واضح رہے کہ علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف ایک ہتک عزت کا مقدمہ لاہور کی سیشن عدالت میں زیر التوا ہے۔ اپنے مقدمے میں علی ظفر کا کہنا ہے کہ میشا شفیع نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے 19 اپریل 2018 کو ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے بے بنیاد الزام لگائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں