187

عورت مارچ میں نفرت انگیز تقاریر اور غیر اخلاقی نعرے نہیں لگنے چاہئیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کے خلاف درخواست نمٹاتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو عورت مارچ کے انعقاد کی درخواست پر آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کے خلاف ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر پولیس نے اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کراتے ہوئے بتایا کہ ہم نے مختلف سول سوسائٹی کے شرکا کے اعتراضات سنے ہیں، عورت مارچ پر کسی کو اعتراض نہیں تاہم سائلین کو مارچ کے طریقہ کار، اس میں استعمال ہونے والے بینرز اور نعروں پر اعتراضات ہیں۔
پولیس نے کہا کہ مال روڈ پر احتجاج پر مکمل پابندی عائد ہے تاہم اگر مارچ کی اجازت دی گئی تو اسے کڑی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ عورت مارچ کا کیس لڑنے والے ثاقب جیلانی می ٹو مہم کے بھی وکیل ہیں، خواتین ہمارے معاشرے کا حسن ہیں، ہم نے کبھی بھی عورت مارچ رکوانے کا نہیں کہا تاہم آزادی اظہار رائے قانونی دائرے سے مشروط ہے۔ اس پر خواتین کے وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ آپ نے اپنی درخواست میں خود لکھا ہے کہ عورت مارچ ریاست مخالف اقدام ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عورتوں کے حقوق پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے لیکن اس وقت یہاں معاملہ مارچ کا ہے، منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ غیر اخلاقی نعرے نہیں ہونے چاہئیں، آئین و قانون کےمطابق عورت مارچ کو روکا نہیں جا سکتا، غیر اخلاقی سلوگن اچھی بات نہیں ہے، مارچ کے دوران نفرت انگیز تقاریر اور سلوگن نہیں ہونے چاہئیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ سے متعلق کیس نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ درخواست گزار کو عورت مارچ کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے، منتظمین و شرکا آئین و قانون کے اندر رہ کر مارچ کریں، ضلعی انتظامیہ عورت مارچ کی اجازت سے متعلق منتظمین کی درخواست کا قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں