8

فطرت کے ساتھ تعلق استوار کیجیے

فطرت کے حسین مناظر ہمیشہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتے ہیں۔ پہاڑ، دریا، سمندر، حسین وادیاں، خوبصورت پھول، پھلوں سے بھری ڈالیاں، پرندوں کا چہچہانا، سورج کی روشنی، چاند کی چاندنی، فطرت کے وہ خوب صورت رنگ ہیں جنہیں دیکھے بغیر زندگی کا وجود مکمل نہیں ہوتا۔ ہر اہلِ دل اور اہلِ ذوق کو فطرت کے ان حسین مناظر سے عشق ہوتا ہے۔
سرمست ہوائیں ہمیشہ انسان کو مبہوت کیے رکھتی ہیں۔ جہاں صبح ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اسے تروتازہ اور ہشاش بشاش کرتی ہے، وہیں سورج کی کرنیں زمین پر پڑتے ہی ہر طرف اجالا کردیتی ہیں اور انسان کو نئے دن کے آغاز کےلیے ایک بار پھر سے سرگرم کردیتی ہیں۔ قدرت کے یہ پرکیف نظارے اپنے حسن کو دکھاتے ہوئے کوئی پردہ نہیں رکھتے۔ لیکن آج کل کے ترقی یافتہ دور اور ازحد مصروف زندگی نے ہمیں نہ صرف فطرت سے دور کردیا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث قدرت کے یہ خوبصورت مناظر ہم سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں، جو ہمارے لیے فکریہ لمحہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن پاک میں بھی انسان کو اس کائنات میں بکھرے رنگوں اور اس کی فطرت اور قدرت کو دیکھ کر اس کی تعریف بیان کرنے اور اس پر غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ فطرت سے لگاؤ ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنے رب کے بھی قریب کردیتی ہے۔ وہ ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے اور اس کائنات میں پھیلی اس کی بے پناہ نعمتوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے اور اس کا شکر بجا لاتا ہے۔
فطری زندگی نہ صرف انسان کو دنیا کے حسین رنگوں سے آشنا کرواتی ہے بلکہ وہ بے زبان مخلوقات جانوروں، پرندوں، اور درختوں سے بھی محبت کرنے اور ان کا خیال رکھنے کو ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ اللہ پاک نے فطری زندگی کی ہی بدولت انسان کو اپنے اردگرد محبت کے جذبات سے روشناس کروایا ہے تاکہ وہ نہ صرف انسانوں کا بلکہ بے زبان مخلوقات کا بھی درد سمجھ سکے۔ اسی لیے اصل زندگی کی رونق فطرت سے قربت اور اس سے آشنائی ہی میں ہے۔
جب انسان کائنات میں چھپی رنگینیوں اور اس کی وسعتوں کے بارے میں کھوج لگاتا ہے تو اسے بے پناہ سکون اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ فطرت نہ صرف انسان کو غموں سے رہائی دلاتی ہے، بلکہ یہ انسان کی سب سے بڑی غم گسار اور بہترین ہمراز بھی ہے۔ فطرت سے انسان کی دلی اور جذباتی ہم آہنگی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ قدرت کے ان حسین نظاروں سے اپنے اندر کے دکھ کو دور کرکے خوشی کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کہتے ہیں صبح جلدی اٹھ کر فطرت کے مناظر سے لطف اٹھاؤ اور اپنے دن کا آغاز روشن صبح اور قدرت کے اس دنیا میں بکھرے ہوئے حسین رنگوں کو دیکھتے ہوئے کرو تاکہ تمہاری زندگیوں میں بھی روشنی ہو اور نئی امیدوں کے چراغ بھی روشن ہوں۔
فطرت کو خرد کے روبرو کر
تسخیر مقام رنگ و بو کر
آج ہماری زندگیوں میں جو انتشار اور بے چینی نظر آتی ہے اس کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے فطرت سے دوری۔ فطرت کی سخت ناقدری اور انسان کی فطرت کے ساتھ بدسلوکی نے آج دنیا بھر کے انسانوں کو وبا میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے آج کا انسان شاندار ترقی کے باوجود بے شمار دکھوں، پریشانیوں اور بیماریوں میں گھرا نظرآتا ہے۔ ہمارے اوپر روز بروز رنگ برنگی بیماریاں حملہ آور ہوتی رہتی ہیں۔ اور ہم ان بیماریوں کے سامنے بے بس اور مجبور نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ فطرت سے اپنے تعلق کو پھر سے استوار کیا جائے اور اپنی زندگیوں کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کردیا جائے۔ فطرت کے سبھی رنگوں کو پھلنے اور پھولنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے ۔ کیونکہ آج بھی فطرت کا وجود ہمارے لیے کسی عظیم الشان نعمت سے کم نہیں۔ تروتازگی اور توانائی سے بھرپور فطرت کے سبھی مناظر اور کھلی فضائیں آج بھی اپنے اندر ہمیں بے شمار روحانی اور جسمانی بیماریوں سے بچانے کا بھرپور سامان رکھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں