74

فوج کیساتھ کوئی تنازع نہیں :فضل الرحمٰن ,غداری کارڈ نہ کھیلیں :مریم نواز

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ،پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ سول نافرمانی کی تحریک کا مقام ایک خاص سطح پر آتاہے مگریہ حکومت اس سے پہلے ہی گر جائے گی، فوج سے کوئی تنازع نہیں، آئین کے دائرے میں تحریک چلارہے ہیں۔ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کاکہناتھاکہ پی ڈی ایم کی تحریک عوام کے حق حکمرانی اور ووٹ کی حرمت کے لئے ہے ،حکمران غداری کارڈ نہ کھیلیں سامنے آ کر جواب دیں، مسلم لیگ ن یا اپوزیشن اداروں کو ٹارگٹ نہیں کررہی۔ تفصیلات پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جاتی امرا میں مریم نواز سے ملاقات کی ۔ملاقات میں دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت نے بھی شرکت کی۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے احتجاجی جلسوں میں حکومت کی ناکامیوں کو بھرپور انداز سے اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ،عوامی مسائل کو بھی بھر پور انداز سے اٹھایاجائے گا،احتجاجی تحریک میں مرحلہ وار شدت لاکر حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ لیگی قیادت کے خلاف بغاوت کے مقدمات پر بھی بات چیت کی گئی۔ملاقات میں شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف، سعد رفیق،پرویز رشید اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔لیگی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن کا رائے ونڈ پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا۔ کارکنوں کی جانب سے پی ڈی ایم سربراہ کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ویلکم ویلکم کے نعرے لگائے ۔مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ شاہ اویس نورانی، مولانا امجد خان، مفتی ابرار، ڈاکٹر عتیق الرحمن، مولانا سیف اللہ اور مولانا یوسف بھی جاتی امرا پہنچے ۔ مریم نواز کی جانب سے پی ڈی ایم سربراہ اور وفد کو عشائیہ بھی دیا گیا ۔پرتکلف عشائیہ میں ان کی مٹن کڑاہی،سٹیم روسٹ ،چکن کباب ،مٹن پلائو ،چکن سجی، پالک گوشت اور دیسی مرغ سے تواضع کی گئی جبکہ میٹھے میں حلوہ ،آئسکریم ،کھیر اور فرنی رکھی گئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا تمام اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق ہے کہ حکومت دھاندلی سے بنی اور کارکردگی کے لحاظ سے نااہل ثابت ہوئی۔مولانا فضل الرحمن کاکہناتھا حکومت کے منفی ہتھکنڈوں سے بے نیاز ہوکر میدان میں نکلیں گے ،ہمارا کسی ادارے سے جھگڑا نہیں، ہمارا فوج سے کوئی جھگڑا نہیں،حکومت کے خلاف تحریک میں آئے روز شدت آئے گی، مریم نوازکا دعوت پرانتہائی مشکورہوں، موجودہ حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ، عام آدمی کراہ رہا ہے ، لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے اعلان کیا 16 اکتوبر کے جلسے میں عوام کیساتھ ہم بھرپور انداز میں شرکت کریں گے ،گوجرانوالہ جلسے سے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ملاقات میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے حوالے سے مشاورت ہوئی کچھ چیزوں کو مزید واضح کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ، اس سلسلے میں احسن اقبال دوسری جماعتوں سے رابطہ کریں گے ۔ مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا پی ڈی ایم کوئی چھوٹی تحریک نہیں یہ آئین اور ووٹ کے دفاع کی موومنٹ ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ گوجرانوالہ جلسے سے قبل ہی حکومت نے وہاں کی انتظامیہ کو تبدیل کر دیا ہے تاہم جتنی مرضی انتظامیہ تبدیل کر لیں، پی ڈی ایم کے جلسے کامیاب ہوں گے ، مجھے خوشی ہے مولانا فضل الرحمن نے جلسے میں شرکت کی حامی بھری ہے ، بلاول بھٹو کو بھی شریک ہونے کی دعوت دینگے ۔ان کا کہنا تھا ایف آئی اے کے سابق سربراہ بشیر میمن کا بیان سوشل میڈیا پر سب نے سنا ہے ان کو آفس میں بلا کر کہا جاتا ہے اپوزیشن کے خلاف مقدمات بناؤ ، اداروں کو سیاست میں گھسیٹنا اسی کو کہتے ہیں۔ مریم نواز کا کہناتھا پی ڈی ایم مہنگائی، میڈیا اورعدلیہ کا مقدمہ لڑے گی، ووٹ کے حرمت کی بات کریں تو غدار قرار دیدیاجاتاہے ، بھارت اس وقت خوش ہوتاہے جب سقوط کشمیر ہوتاہے جب آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے خلاف غداری کا مقدمہ درج ہوتاہے ، غداری کارڈ سے نہیں حکمران سامنے آ کر جواب دیں ۔ مریم نواز کاکہناتھاکہ حکمران جو مرضی کرلیں تحریک کامیاب ہوگی۔انہوں نے کہا ملک کا حکمران کون ہوگا فیصلہ عوام کریں گے ،نوازشریف کو کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے ، 72 سال سے مذہب اورغداری کارڈ کھیلے جارہے ہیں۔مریم نواز نے کہا حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ یہ حکومت اپنے وزن سے خود ہی گرے گی، نوازشریف علاج کے بعد واپس آئیں گے ۔ان کاکہنا تھا اس سلیکٹڈ عوام دشمن حکومت سے نجات ہی ملک وقوم کے لیے سب سے بڑا ریلیف ہوگا۔ملاقات میں مریم نواز نے کہاشہباز شریف کی گرفتاری قومی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہے انہیں نوازشریف کا بھائی ہونے کی سزا دی جارہی ہے ۔ شہبازشریف کو نظرئیے ، آئین، عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کی سزا مل رہی ہے ، وہ ضمیراو روفا کے قیدی ہیں۔مریم نوا ز نے کہاآج معیشت تباہ ہے ، عوام تاریخ کی بدترین مہنگائی کا شکار ہیں،آٹا، چینی، خوراک ، بجلی، گیس ہر چیز مہنگی ہے جس نے عوام کا جینا حرام کردیا ہے ،میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔نیب ، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی طرح پیمرا کو استعمال کیاجارہا ہے ، ان سب اوچھے ہتھکنڈوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ سچ کوئی نہ بولے ، سر کوئی نہ اٹھائے ، حق بات کوئی نہ کرے ۔ آئین، جمہوریت،شہریوں کے حقوق، مہنگائی، معیشت کی تباہی،سقوط کشمیر،ووٹ ، آٹا،چینی،دوائی چوری پر خاموش ہوجائیں لیکن یہ نہیں ہوگا، ظلم، فسطائیت اور آمریت کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے ۔قبل ازیں جامعہ مدنیہ میں جے یو آئی کی مجلس عاملہ سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے ہیں، غداری کی جنگ نہ چھیڑی جائے ،غداری کے مقدمے بنانیوالے خود غدار ہیں ۔ ہمیں نیب کے ذریعے ڈرایا جارہا ہے ، نیب والے آئیں تو سہی ہم گرفتاری دینے کیلئے تیار ہیں ۔انہوں نے کہا نواز شریف اور وزیر اعظم آزادکشمیر کیخلاف غداری کا مقدمہ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ نے خبردار کیا ہے اگر کسی نے پی ڈی ایم تحریک سے پیچھے ہٹنے کی کوشش تو اسے بڑی قیمت چکانا پڑے گی،اب لانگ مارچ بھی ہوگا اور دھرنا بھی ہوگا۔سردار ایاز صادق کہتے ہیں اپوزیشن کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں،جاتی امرا کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا اب تحریک سے پیچھے ہٹنا کسی کے لئے ممکن نہیں سولہ اکتوبر کو عوام کا سیلاب باہر نکلے گا ،بغاوت کے مقدمے میں تین ریٹائرڈ جرنیلوں نے بھی ابھی شاہدرہ تھانے جانا ہے ۔دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے بتایا جائے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتا ہے تاکہ میں بھی حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کے لیے اپلائی کروں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا جو غدار اور انڈین ایجنٹ کہہ رہے تھے وہ سارے غائب ہیں کہا گیا کہ مقدمہ درج ہونے کا وزیراعظم کوپتہ ہی نہیں تھا، وہ ناراض ہوئے ہیں پرچہ کٹنے پر، وزیراعظم کو تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے ، وزیراعظم کو علم ہی نہیں کہ معیشت تباہ ہو گئی ہے ۔ ن لیگ کے رہنما خواجہ محمدآصف نے ٹی وی پروگرام میں کہا اپوزیشن استعفوں کے آپشن کو مارچ سے قبل استعمال کرے گی استعفے کے بعد سینیٹ الیکشن ممکن نہیں رہیں گے ، نواز شریف مریم نواز کو قیادت سونپتے ہیں تو مناسب ہوگا،نواز شریف کی جانشین مریم نواز ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں