376

قبروں میں چلے جانے والے سنتے ہیں کہ نہیں ؟(سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ سے سوال)

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاریؒ پنجاب میں ایک مقام پر جلسے کے لیے گئے سٹیج پر پہنچے ابھی تقریر شروع نہیں کی تھی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا شاہ جیؒ تقریر بعد میں ہوگی پہلے یہ بتائیے کہ مُردے سنتے ہیں کہ نہیں سنتے؟ شاہ جیؒ نے پوچھا میاں کوئی خاص کام ہے ان سے “زندوں کے مسائل حل کر لئے ہیں کہ قبرستان والوں کی فکر پڑ گئی ہے” اس شخص نے کہا کام تو کوئی نہیں بس پوچھنا اس لیئے ہے کہ یہاں کچھ لوگ کہتے ہیں مُردے سنتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں نہیں سنتے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اصل صورتحال کیا ہے؟
شاہ جیؒ نے فرمایا میاں! اس میں سوال جواب کرنے گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو مشاہدے کی بات ہے جب مرو گے تو پتا چل جائیگا اگر سنتے ہوں گے تو سن لینا اگر نہیں سنتے ہوں گے تو چپ کر کے پڑے رہنا ۔جواب ایسازعفرانی تھا کہ پورا مجمع خاموش ہوگیا پھر ایک آہِ سرد لی اور فرمایا ۔
سنتے ہوں گے جن کی سنتے ہوں تم مُردوں کی بات کرتے ہو میری توزندہ بھی نہیں سنتے میں نے 40سال ان زندہ کے قبرستانوں میں آذان دی ہے مجھے اسکا جواب نہیں ملا۔
واقعی حقیقت یہی ہے۔ نہ جانے ہم حقائق کو
”بحث“ کیوں بنا لیتے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ بدر میں مارے جانے والے کفار قریش سے بھی مخاطب ہوئے اور جلیل قدر صحابہؓ کو فرما دیا کہ یہ ایسے ہی سن رہے ہیں جیسے کہ تم۔ پھر آج کے اس دور میں اس سوال کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں