152

لاہور میں سرکاری اراضی پر تعمیر کھوکھر پیلس خالی کرانے کا حکم

سپریم کورٹ نے محکمہ اینٹی کرپشن کو کهوکهر برادران کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سرکاری اراضی پر ان کا تعمیر کردہ کهوکهر پیلس بھی خالی کرانے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں شہریوں کی جائیدادوں پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کهوکهر برادران کے قبضوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی تو افضل کھوکھر اور سیف الملوک کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ ڈی جی اینٹی کرپشن نے ملزمان کی جائیدادوں اور کهوکهر پیلس سے متعلق اپنی رپورٹ بھی جمع کرائی۔
سپریم کورٹ نے کهوکهر پیلس خالی کرانے اور اینٹی کرپشن کو اپنی رپورٹ کی روشنی میں کهوکهر برادران کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن کهوکهر پیلیس سے قبضے ختم کروا کر 10 دن میں رپورٹ پیش کرے، ملزمان کے خلاف کرپشن کے مقدمے درج کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اینٹی کرپشن رپورٹ میں بتایا گیا کہ کهوکهر پیلس میں شامل 40 کنال سرکاری اراضی پر کهوکهر برادران کا قبضہ ہے، کهوکهر پیلس مختلف افراد سے زبردستی خریدی ہوئی مشترکہ کهاتے پر تعمیر ہے، ملزمان نے 10 افراد میں سے صرف 1 کو ادائیگی کر کے باقیوں کو بهگا دیا، انہوں نے آپ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ضمانتیں کرا رکهی ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کوئی نہیں پوچهے گا۔
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ہم مشترکہ کهاتا توڑ رہے ہیں، ملزمان کهوکهر پیلس خالی کرکے اپنا سامان اٹهالیں، وزیراعظم ہاؤس میں یونیورسٹی کی طرح کهوکهر پیلس میں بهی کوئی تعلیمی ادارہ قائم کروا دیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قبضے کا کلچر کهوکهر برادران نے متعارف کروایا ہے، ان کی مرضی کیخلاف وہاں مکهی بهی پر نہیں مار سکتی، پاکستان میں یہ بدمعاشی نہیں چلنے دوں گا، ایسے لوگوں نے پاکستان کو تباہ کر دیا ہے، یہ جو آنکهیں جهکائے کهڑے ہیں، مجهے پتہ ہے انہوں نے بعد میں میرے ساتھ کیا کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں