220

لاہور میں پی آئی سی ھسپتال مکمل طور پر بند

امراض قلب کا اسپتال پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی آج مکمل طور پر بند ہے۔
لاہور میں پی آئی سی کے اندر اور باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ڈاکٹرز و دیگر طبی عملہ نہ ہونے کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مایوسی کا سامنا ہے۔ بالخصوص دور دراز سے آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین زیادہ متاثر ہیں۔
پی آئی سی کی او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز سب بند ہیں اور مریضوں کے آپریشن اور چیک اپ منسوخ کردیے گئے ہیں جبکہ بعض مریضوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ دل کے اسپتال میں علاج معالجہ کےلئے کئی ماہ پہلے ڈاکٹرز سے وقت لینا پڑتا ہے۔
وکلاء کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے اسپتال کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ طبی عملہ نے ٹوٹنے والی چیزوں اور شیشوں کو ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے اور وارڈز کی صفائی جاری ہے تاہم توڑ پھوڑ والی جگہوں کو جائے وقوعہ قرار دے کر بند کردیا گیا ہے۔
ڈاکٹرز کی تنظیم گرینڈ ہیلتھ الائنس نے صوبے میں تین دن سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایمرجنسی میں ڈاکٹرز کالی پٹیاں باندھ کر کام کریں گے۔ الائنس نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار،وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت،وزیر صحت یاسمین راشد سے مستعفی ہونے اور 24 گھنٹوں میں سیکورٹی بل آرڈیننس لانے کا مطالبہ بھی کرتے ہوئے کہا کہ تین دن تک مطالبات نہ مانے گئے تو اگلا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
تھانہ شادمان میں وکلا کے خلاف پی آئی سی واقعے کے دو مقدمات درج کرلیے گئے ہیں جس پر وکلا نے آج مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور سیشن عدالت بند ہے۔
گزشتہ روز لاہور میں وکلا نے ڈاکٹرز کے ساتھ تنازع پر پی آئی سی پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی تھی جس کے نتیجے میں طبی امداد نہ ملنے پر 6 مریض جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں