69

لاہور پولیس کے اہم افسر تبدیل ,کئی سیٹیں خالی , سکیورٹی پر سوالیہ نشان

پنجاب پولیس میں 2ہفتوں کے دوران 110اعلیٰ افسروں کے تبادلے سے پولیسنگ متاثر ہونے لگی،جبکہ آئندہ چند روز میں مزید آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے تبادلے متوقع ہیں۔تفصیلات کے مطابق موجودہ حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعد پنجاب پولیس میں سب سے زیادہ تبادلے کئے جا رہے ہیں ایک ہفتے کے دوران پنجاب پولیس میں 110 اعلیٰ افسرتبدیل کئے گئے ہیں،ان میں 3ایڈیشنل آئی جی اور 10 ڈی آئی جی رینک کے افسر شامل ہیں جبکہ باقی ایس ایس پی ، ایس پی اور ڈی ایس پیز رینک کے افسرہیں،ان میں بعض کو ناصرف عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ صوبہ بدر بھی کیا گیا ہے ،جبکہ وفاق سے مزید افسران کے تبادلے کروا کرانہیں پنجاب میں رپورٹ کروایا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس میں آئے روز تبادلوں کی وجہ سے ناصرف پالیسی دستاویزا ت تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں بلکہ اس کا اثر تھانوں کی سطح پر بھی جا رہا ہے ،عوام کی تھانوں میں شنوائی نہیں ہورہی اور وہ رشوت سے کام کروانے پر مجبور ہیں،ادھر کئی اعلیٰ افسرصوبہ بدر ہونے سے بچنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز تک پنجاب پولیس میں مزید آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے تبادلے متوقع ہیں جبکہ لاہور پولیس میں بھی مزید افسروں کو تبدیل کیا جائے گا، واضح رہے کہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے اپنی پہلی میٹنگ میں کہا تھا کہ وہ پنجاب پولیس میں اکھاڑ بچھاڑ کے حق میں نہیں ، لیکن حالات اس کے برعکس ہیں۔ لاہور (عمر جاوید )صوبائی دارالحکومت لاہور میں چہلم حضرت امام حسین ؓاور عرس داتا گنج بخش ؒسے قبل لاہور پولیس کے اہم عہدوں پر افسروں کے تبادلے اور کئی سیٹیں خالی ہونے سے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے ، ذرائع کے مطابق ایس ایس پی آپریشنز لاہور فیصل شہزاد کو ڈی پی او اوکاڑہ تعینات کر دیا گیا جبکہ انتہائی اہمیت کی حامل سیٹ ایس پی سکیورٹی دو ہفتے سے خالی ہے ، چہلم اور عرس کے تناظر میں سب سے اہم عہدہ ایس پی سٹی ہے یہاں سے تصور اقبال کا گزشتہ روز تبادلہ کردیا گیا،ایس پی کینٹ اور ایس پی اینٹی رائٹس کی سیٹیں بھی خالی پڑی ہیں، چہلم اور عرس داتا صاحب کے علاقے کی سکیورٹی کے ذمہ دار ڈی ایس پی صوبے خان کو سی سی پی او لاہور نے تین روز قبل آئی جی پنجاب کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے کلوز کیا تھا جبکہ ایس ایچ او اسلام پورہ کو بھی معطل کردیا تھا جس کے بعد یہ دونوں عہدے بھی خالی ہیں،ایس ایس پی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کے تبادلے کے بعد ایس ایس پی عبدالغفار قیصرانی کو تعینات کیا گیا جنہوں نے ابھی تک چارج نہیں سنبھالا، ایس ایس پی ڈی اینڈ آئی عبادت نثار کورس پر چلے گئے جبکہ نو تعینات ایس ایس پی ایڈمن عثمان باجوہ پانچ روز کی چھٹی پر ہیں، علاوہ ازیں ٹریفک اور ضلعی پولیس کے 14 ڈی ایس پیز بھی عہدوں پر موجود نہیں، ان میں ڈی ایس پی باغبانپورہ ، ڈی ایس پی ماڈل ٹائون، ڈی ایس پی سمن آباد ، ڈی ایس پی اسلام پورہ اور ڈی ایس پی شاہدرہ جبکہ ٹریفک کے ڈی ایس پی لائسنسگ ، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز ، ڈی ایس پی ایجوکیشن ، ڈی ایس پی سکیورٹی ، ڈی ایس پی مغلپورہ ، ڈی ایس پی شاہدرہ ، ڈی ایس پی انار کلی ، ڈی ایس پی صدر اور ڈی ایس پی اچھرہ کی سیٹیں خالی ہیں،ذرائع کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ پولیس افسران لاہور میں تعینات نہیں ہونا چاہ رہے جس وجہ سے سنٹرل پولیس آفس کو افسران ڈھونڈنے اور تعینات کرنے میں پریشانی کا سانا کرنا پڑ رہا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں