31

لوٹی رقم فوری واپس کی جائے، غریب ملکوں کا عالمی استحصال بند کیا جائے وائٹ کالر کرائم سے ہر سال ایک کھرب

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ غریب ملکوں کا عالمی استحصال بند کیا جائے ، وائٹ کالر کرائم کے ذریعے ہر سال ایک کھرب ڈالر کی منتقلی کی جاتی ہے ، غریب اور ترقی پذیر ملکوں سے لوٹی گئی رقوم کو فوری واپس کیا جائے ، ہماری حکومت کو کرپشن کے خاتمے کا مینڈیٹ ملا ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اعلیٰ سطح کے تخفیف غربت سے متعلق عالمی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث اقتصادی شرح نمو میں تیزی سے کمی واقع ہوئی، حکومت پاکستان نے احساس پروگرام میں ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کی مالی مدد کی، حکومت نے کورونا وبا سے غریبوں کو بچانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ۔ وزیراعظم نے کہا دنیا کی آبادی کا 15 فیصد جو کہ تقریباً ایک ارب بنتا ہے وہ غربت میں رہ رہا ہے ، غربت کی وجہ سے بڑی تعداد میں انسان متاثر ہو رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، یہ سماجی و اقتصادی عدم استحکام کی بھی ایک وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا میں بڑے سیاسی اور سلامتی کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی پائیدار ترقی کے اہداف میں پہلی ترجیح غربت کا خاتمہ ہو۔ گزشتہ 30 سال سے غربت میں نمایاں کمی آئی ہے ، تاہم کوویڈ۔19 وبا کی وجہ سے عالمی کساد بازاری اس صدی کی بدترین سطح پر ہے ، 10 کروڑ افراد انتہائی غربت میں چلے گئے جنہیں واپسی کے لیے کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کے ذریعے ہم اس پر قابو پانے کے قابل ہوئے ، میری حکومت نے غریب اور محروم لوگوں کو تحفظ دیا، شدید مالی مشکلات کے باوجود ہم نے ایمرجنسی کیش کے تحت ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کا پیکیج دیا، جس سے ایک کروڑ 50 لاکھ خاندان اور 10 کروڑ افراد مستفید ہوئے ۔ احساس پاکستان کی تاریخ کا غربت کے خاتمے کا سب سے بڑا پروگرام ہے ۔ ہماری حکومت 2023 ء تک غربت کی موجودہ 24.3 فیصد شرح کو 19 فیصد تک لانے کے لیے پُرعزم ہے ۔ اس وقت دنیا کے 26 امیر ترین افراد آدھی دولت کے مالک ہیں، امیر ممالک نے کوویڈ بحران سے نکلنے کے لیے 100 کھرب ڈالر متحرک کر رکھے ہیں، جب کہ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک 25 کھرب ڈالر کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ غریب ممالک کو قرضوں میں ریلیف کی مد میں مدد دی جانی چاہیے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان(آج)جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں گے ، عالمی ادارے کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے زور دیں گے اور پاکستان میں کورونا کے خلاف موثر حکمت عملی کو اجاگر کریں گے ۔ خطاب میں وزیراعظم عمران خان غریب ممالک پر قرضوں سے متعلق اظہار خیال کریں گے اور علاقائی سلامتی کو درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالیں گے ۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا بھی اجلاس ہوا، جس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ گزشتہ دو نیلامیوں (جولائی اور ستمبر) میں سی ڈی اے نے 55 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں جو کہ وفاقی دارالحکومت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے برؤے کار لائے جائیں گے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی صاف پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے غازی بروتھا سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ روات بھارہ کہو رنگ روڈ تعمیر کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے بتایا کہ 74 لاکھ 90 ہزار مربع فٹ پر تعمیرات کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے ، جب کہ ایک کروڑ 20 لاکھ مربع فٹ کی تعمیرات کے منصوبوں کی منظوریوں کا عمل زیر غور ہے ، جسے مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ لاہور میٹرو منصوبے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ دورِ حکومت میں میٹرو کا معاہدہ 364روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کیا گیا، جب کہ موجودہ دور میں جب ڈالر کی قیمت بھی بڑھی ہے پھر بھی یہ معاہدہ 304 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے کیا گیا ہے ۔ اس طرح فی کلومیٹر ساٹھ روپے بچت کی گئی ہے ، جس کے نتیجے میں آٹھ ارب روپے بچت ہو گی۔ وزیراعظم نے حکومت پنجاب کی جانب سے کیے جانے والے بہتر معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجود حکومت شفاف معاہدو ں اور عوام کی ایک ایک پائی کا مناسب استعمال یقینی بنانے کے حوالے سے پُرعزم ہے ۔ دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان نے ایک اور اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور ترسیلات زر کے حوالے سے ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے اور اس ضمن میں مراعات دی جائیں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کی ترقی سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ اس سے معیشت مستحکم اور دولت کی پیداوار ممکن ہو گی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے موجودہ حکومت کے دو اہم ترین منصوبوں راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ دونوں منصوبوں کے حوالے سے ٹرانزیکشن اسٹرکچر مرتب کیا جا رہا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے وزیر برائے انسداد منشیات اعظم خان سواتی نے ملاقات کی، جس میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے وفاقی دارالحکومت میں جدید خطوط پر ایک ماڈل سینٹر کے قیام کے حوالے سے گفتگو کی گئی، جب کہ وزیراعظم عمران خان سے گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون نے بھی ملاقات کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں