136

متحدہ عرب امارات میں جائیدادوں کے 44 مالکان کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سیاسی تعلقات رکھنے والے 44 افراد یا ان کے بے نامی داروں کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروا دی جو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔
مذکورہ فہرست میں ایک جائیداد کی بے نامی دار کے طور پر وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خانم کا بھی نام شامل ہے، جنہیں ای میل اور گھر کے پتے پر نوٹس ارسال کیا جاچکا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق وہ ملک سے باہر ہیں۔
خیال رہے کہ یہ فہرست اس معلومات کا حصہ ہے جو منی لانڈرنگ کیس میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کے پاس جمع کروائی گئی ہیں۔
اس فہرست میں انور اسٹیل کے مالک اور سابق سینیٹر انور بیگ کی اہلیہ عائشہ انور بیگ کا نام بھی درج ہے جن کی یو اے ای میں ایک جائیداد ہے، لیکن انہوں نے اس کا ذکر وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جمع کروائے گئے ٹیکس گوشواروں میں نہیں کیا۔
اس کے علاوہ سیاستدان عرفان اللہ مروت بھی اس فہرست میں جائیداد کے مالک کے طور پر اندراج رکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے نام پر موجود جائیداد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔
اسی طرح ممتاز احمد مسلم جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہے، نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی دبئی میں جائیدادیں موجود ہیں لیکن ان کے مطابق ایف آئی اے کی فہرست میں موجود 16 جائیدادیں ان کی نہیں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے انتقال کر جانے والے رہنما مخدوم امین فہیم کی اہلیہ رضوانہ فہیم کی بھی 4 جائیدادیں موجود ہیں جنہیں نوٹس ارسال کیا گیا تھا لیکن ان کے چوکیدار نے یہ کہتے ہوئے نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا کہ وہ ملک میں موجود نہیں۔
ان کے علاوہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے سابق پرسنل سیکریٹری طارق عزیز کی صاحبزادی طاہرہ منظور متحدہ عرب امارات میں 6 جائیدادوں کی مالک ہیں اور ایف بی آر کی تحقیقات کی زد میں ہیں۔
مذکورہ فہرست میں ایک جائیداد کے مالک کے طور پر اداکار و پروڈیوسر عبداللہ کادوانی کا نام بھی موجود ہے جو گورنر سندھ کے سابق پرسنل ریلیشنز افسر (پی آر او) بھی تھے۔
ان کے ساتھ ارشد سمیع خان کی اہلیہ نورین سمیع خان بھی یو اے ای میں 3 جائیدادوں کی مالک ہیں اور ایف بی آر کی جانب سے اس کا تصدیقی عمل جاری ہے۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ قومی اسمبلی سردار دلدار احمد چیمہ یو اے ای میں موجود 2 جائیدادوں سے لاتعلقی کا اعلان کرچکے ہیں۔
ایف آئی اے کی فہرست میں کسٹم کلکٹر ڈاکٹر ذوالفقار احمد کی اہلیہ سبلینہ ذوالفقار، کسٹم کلکٹر کے عہدے پر تعینات ایک سرکاری ملازم آغا شاہد مجید خان، پی پی پی کے دور حکومت میں پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر رہنے والے محمد اعجاز ہارون، سندھ زرعی ترقیاتی بینک کے ملازم ارشاد احمد کا نام بھی درج ہے۔
ان کے علاوہ سابق وزرا ہمایوں اختر اور ہارون اختر کے بھائی اکبر خان کی بھی یو اے ای میں 6 جائیدادیں موجود ہیں جنہوں نے متعدد نوٹسز کے باوجود کوئی حلف نامہ جمع نہیں کروایا۔
اس کے ساتھ سابق وفاقی وزیر میر ابراہیم ریکی کے پوتے ذوالفقار بلوچ نے اپنی ایک جائیداد کو دادا سے ملنے والے تحفے کے طور پر ظاہر کیا جبکہ ٹی وی اینکر ڈاکٹر فرخ سلیم کی والدہ عذرا نسرین بھی یو اے ای میں ایک جائیداد کی مالک ہیں جس کا اندارج انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں کیا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں