52

معمر ترین ’مادہ‘ اژدہا نے بغیر ’نر‘ کے 7 انڈے دے دیئے!

امریکی ریاست مسوری کے شہر سینٹ لوئی کے مرکزی چڑیا گھر میں 62 سالہ مادہ اژدہا نے 7 انڈے دیئے ہیں جبکہ گزشتہ بیس سال وہ اکیلی ہے، یعنی اس نے نر اژدہے سے کوئی ملاپ نہیں کیا۔

اس مادہ اژدہا کا تعلق ’’بال پائتھن‘‘ کہلانے والے اژدہوں کی قسم سے ہے جن کی اوسط عمر 30 سے 40 سال ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ چڑیا گھر میں رکھی گئی معمر ترین مادہ اژدہا بھی شمار ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بال پائتھن اژدہوں کی ماداؤں میں بغیر نر کے انڈے دینے کے واقعات اگرچہ بہت کم مشاہدے میں آئے ہیں لیکن انہیں مکمل طور پر ناممکن قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ اس لیے بھی ممکن ہے کیونکہ بال پائتھن ماداؤں میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے نر اژدہے کا نطفہ (اسپرم) لمبے عرصے تک اپنے اندر محفوظ کرسکتی ہیں جسے بعد میں کسی وقت استعمال کرکے وہ انڈے دے دیتی ہیں۔ یعنی اس عمل کو بھی ہم ’’بغیر نر کے انڈے دینا‘‘ نہیں کہہ سکتے۔

البتہ، سینٹ لوئی چڑیا گھر میں رکھی گئی مادہ اژدہا کا معاملہ اس لحاظ سے حیرت انگیز ہے کیونکہ اوّل تو بال پائتھن اژدہوں کی عمر 40 سال سے زیادہ نہیں ہوتی، جبکہ ان کی مادائیں بھی 30 سال کی عمر میں پہنچ کر انڈے دینا بند کردیتی ہیں۔

اگرچہ میڈیا میں یہ خبر چند روز پہلے ہی گرم ہوئی ہے لیکن سینٹ لوئی چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ مادہ بال پائتھن نے یہ ساتوں انڈے اس سال 23 جولائی کو دیئے تھے۔

ان میں سے دو انڈے خراب ہوگئے، دو انڈے جینیاتی تجزیئے کےلیے تجربہ گاہ کو بھجوا دیئے گئے جبکہ باقی تین انڈوں کو سنبھال کر رکھ لیا گیا ہے۔

امید ہے کہ سنبھالے گئے ان انڈوں میں سے اس ماہ کے اختتام تک بچے نکل آئیں گے کیونکہ بال پائتھن اژدہوں میں انڈوں سے بچے نکلنے کا دورانیہ 53 سے 55 دن تک ہوتا ہے۔

جینیاتی تجزیئے کے بعد معلوم ہوجائے گا کہ یہ انڈے کسی نر اژدہے سے ملاپ کے بغیر ہی دیئے گئے ہیں یا پھر برسوں پہلے محفوظ کیے گئے کسی نطفے سے بارور ہوئے ہیں۔

لیکن اگر یہ گتھی سلجھ بھی گئی، تب بھی 62 سال کی عمر میں مادہ اژدہا کا انڈے دینا اپنی جگہ ایک حیرت انگیز واقعہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں