286

منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کا ایک اور بیٹا گرفتار

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کیس میں اومنی گروپ کے مالک انور مجید کے ایک اور بیٹے نمر مجید کو گرفتار کرلیا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل لارجر بینچ نے اومنی گروپ کی شوگر ملز میں چینی کے ذخائر غائب ہونے کے معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر حکام کو طلب کرلیا۔
انور مجید کا بیٹا نمر مجید عدالت کے روبرو پیش ہوا۔ سماعت کے بعد ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو منی لانڈرنگ کیس میں احاطہ عدالت سے حراست میں لے لیا۔
دوران سماعت اومنی گروپ کی شوگر ملز میں منجمد چینی کا اسٹاک غائب ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کے اثاثوں کے 14 ارب روپے میں سے 11 ارب روپے کی چینی غائب کردی گئی ہے، ایف آئی اے اور پولیس کہاں تھی؟۔
ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ 9 شوگر ملیں اومنی گروپ کی چھتری کے نیچے چل رہی ہیں جن میں نوڈیرو شوگر مل، باندھی، کھوسکی شوگر، انصاری شوگر، ٹنڈو الہ یار شوگر مل، باوانی، نیو دادو ، لارڈ شوگر مل اور چمڑ شوگر مل شامل ہیں، جب کہ چینی غائب کرنے پر اومنی گروپ کے خلاف 9 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں، ان شوگر ملوں کے چیف ایگزیکٹو اومنی گروپ کے مالکان ہی ہیں، اومنی گروپ کے کچھ دفاتر کراچی اور کچھ اندرون سندھ میں ہیں۔
جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور بیٹے عبدالغنی مجید کو 15 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں آصف زرداری کے ایک اور قریبی ساتھی اور سابق چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچینج حسین لوائی بھی حراست میں ہیں۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے متعدد جعلی بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ اس کیس میں بہت بااثر شخصیات اور بعض بینکوں کے مالی سربراہان کے نام سامنے آئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں