48

موٹروے زیادتی کیس؛ متنازع بیان پر سی سی پی او لاہور طلب

قائمہ کمیٹی نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور کو موٹروے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر طلب کرلیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا ریاض فتیانہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے موٹروے پر زیادتی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شدید مذمت کی اور ملزمان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
کمیٹی نے سیکرٹری کمیونیکیشن، آئی جی موٹر وے پولیس اور سی سی او پی لاہور کو آئندہ اجلاس میں طلب بھی کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی شرم ناک ہے، موٹر وے مارچ میں کھول دی گئی لیکن ابھی تک موٹر وے پولیس تعینات کیوں نہیں ہوئی۔
ملزمان کے ہاتھ کاٹے جائیں
ریاض فتیانہ نے کہا کہ سی سی او پی لاہور نے جو ریمارکس دیے اس پر بہت شدید ردعمل آیا ہے، عمر شیخ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو وضاحت دیں۔
محمود بشیر ورک نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ معاشرہ کہاں چلا گیا، معاشرہ کتنا گر گیا ہے، کم از کم سزا یہ ہے کہ ملزمان کے ہاتھ کاٹے جائیں۔
متاثرہ خاتون کی کونسلنگ
چیرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے ہدایت کی کہ حکومت پنجاب خاتون اور اس کے بچوں کی نفسیاتی کونسلنگ کرے، ملک میں ساڑھے سات سو قانون ہیں، یہ معاملہ قانون سازی کا نہیں بلکہ عمل درآمد کا ہے۔
کشور زہرہ کا کہنا تھا کہ پولیس میں شدید اصلاحات کی ضرورت ہے، پولیس اپنے اختیارات سے تجاویز کرتی ہے۔ نفیسہ شاہ نے کہا کہ سی سی پی او کا بیان متاثرہ خاتون کی تذلیل ہے، سی سی پی او کو عہدے سے ہٹایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں