38

ندا یاسر نے مروہ کی فیملی کوشو میں بلانے پر معافی مانگ لی

مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر نے زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والد اور دادی کو شومیں بلاکر ان سے غیر سنجیدہ سوالات پوچھنے پر معافی مانگ لی۔
چند روز قبل ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو میں کراچی میں زیادتی کے بعد بے رحمی سے قتل ہونے والی 5 سالہ مروہ کے والد اور دادی کو اپنے شو میں بلایا تھا اور ان سے واقعے سے متعلق سوالات پوچھے تھے جس کی وجہ سے بچی کی دادی شو کے دوران ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔
ندا یاسر کی جانب سے شو پر بچی کے لواحقین کو بلا کر ان سے واقعے کے متعلق پوچھناسوشل میڈیا صارفین کو بالکل پسند نہیں آیا اور لوگوں نے ندا یاسر کوبےحس قرار دیتے ہوئے نہ صرف ان کے شو پر تنقید کی اور شدید غم و غصے کا اظہار کیابلکہ ان کے شو پر پابندی کا مطالبہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
لوگوں کی تنقید کے بعد گزشتہ شام ندا یاسر نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے لوگوں سے معافی مانگی اور وضاحت پیش کی کہ انہوں نے مروہ کی فیملی کو شو پر نہیں بلایا تھا بلکہ بچی کے گھر والوں نے خود ان سے رابطہ کیا تھا۔
ندا یاسر نے ویڈیو میں کہا دیکھنے میں آرہا ہے کہ مجھ سے کچھ لوگ ناراض ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ مروہ کے والد کوبلا کر میں نے ان سے کچھ ایسے سوال کیے جو مجھے نہیں کرنے چاہیئے تھے ۔ اس لیے سب سے پہلے تو میں معافی مانگنا چاہوں گی کیونکہ میں آپ لوگوں کو ناراض نہیں دیکھ سکتی تو اگر جانے انجانے میں مجھ سے کوئی ایسی بات ہوگئی ہے یا میں نے کچھ ایسے سوال کردئیے ہیں تو میں آپ لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہوں۔
اس کے بعد ندا یاسر نے مروہ کے گھر والوں کو شو پر بلانے کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے مروہ کی فیملی کو نہیں بلایا تھا بلکہ وہ خود آنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں میڈیا سپورٹ کی ضرورت تھی۔ اگر آپ نے شو پورا دیکھا ہوگا تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کی پہلے دن ایف آئی آر بھی نہیں کٹ رہی تھی۔
ندا یاسر نے کہا کہ جب اس طرح کے کیسز کو میڈیا سپورٹ ملتی ہے تو ادارے مزید تیزی سے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ لہذا جب مروہ کی فیملی نے شو میں آنے کی درخواست کی تو ہم نے سارے کام چھوڑ کر انہیں شو میں بلایا تاکہ ہم ان کی سپورٹ کرسکیں اور خدا گواہ ہے کہ ہم نے مروہ کے گھر والوں کو ریٹنگ یا ٹی آر پی کے لیے نہیں بلایا تھا۔
ندا یاسر نے مزید کہا کہ اس شو کے دو دن بعد مروہ سے زیادتی کرنے والا ملزم پکڑا گیا اور اس فیملی نے مجھے بہت دعائیں دیں ۔ لیکن پھر بھی میں انسان ہوں جانے انجانے میں مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، اگر میرے منہ سے کچھ غلط نکل آیا تو میں تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں اور کوشش کروں گی کہ آئندہ اور بھی زیادہ پھونک پھونک کر قدم رکھوں مجھے معاف کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں