5

نوازشریف کی سرنڈر کرنے کے احکامات پر عمل درآمد روکنے کیلیے درخواست دائر

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے ہائی کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کے احکامات پر عمل درآمد روکنے کے لیے درخواست دائر کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں کل عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کے احکامات پر عمل درآمد روکنے کے لیے درخواست دائر کردی ہے، خواجہ حارث کی جانب سے دائر درخواست میں نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ بھی منسلک کی گئی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف کی عدم موجودگی میں ان کے نمائندہ وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے، نوازشریف کی میڈیکل کنڈیشن ایسی نہیں کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو سکیں لہذا سرنڈر کرنے کے حکم پر عدالت نظرثانی کرے۔
نواز شریف میڈیکل رپورٹ؛
عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی 4 ستمبر کی میڈیکل رپورٹ منسلک کی گئی ہے جس کے مطابق نواز شریف ہائیپر ٹینشن اور امراض قلب سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں، میڈیکل رپورٹ میں نواز شریف کو دی جانے والی ادویات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جب کہ میڈیکل رپورٹ نواز شریف کے معالج ڈاکٹر ڈیوڈ آر لارنس نے جاری کی۔
درخواستیں سماعت کے لیے مقرر؛
دوسری جانب العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی درخواستیں کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔ نیب کی العزیزیہ ریفرنس اور نوازشریف کی ایون فیلڈریفرنس میں اپیل بھی کل سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل بینچ درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کے 2 رکنی بینچ نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے تحریری حکم نامے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو سرنڈر کرنے کے لیے 9 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر موثر اور ختم ہوچکی جب کہ وہ عدالت کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے لہذا نواز شریف 10 ستمبر تک عدالت کے سامنے سرنڈر کریں ورنہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں